تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 403 of 736

تحدیث نعمت — Page 403

۴۰۳ پاس لیکر قریبیچ میں نیچے تک یعنی پہلی شہر کے مخرت تکدر یائے مینا کا دلی کی طرف کا کنارہ اس طور پر ترتیب دیا جائے کہ ایک تو طغیانی کے زمانے میں شہر کے نشیب میں سیلاب کا پانی جمع نہ ہو اور دوسرے لال قلعہ سے لیکر اس تمام رقبہ میں ایک خوشنما پارک بن جائے۔جس میں پرانا قلعہ ، سمالوں کا مقبرہ اور دیگر سب پرانی عمارات شامل ہو جائیں تاکہ دلی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے عوام کیلئے ایک سیر گاہ مہیا ہو جائے۔مجھے اندیشہ تھا کہ خزانے کی وزارت کے ماہرین اخراجات کی بنا پر ہشتم کی رو پیداکریں گے۔لیکن مجھے امید تھی کہ یں سر جیمز گرگ سے تو یقینا اور سوچری رسیمین سے اغلب منظوری لے لوں گا۔لیکن جنگی امور حال ہو گئے۔میرا ہمیشہ یہ احساس رہا ہے کہ حکومت کی طرف سے مرا کے لئے تو ہر آ ئیش کا سامان جلد ہوجاتا ہے لیکن عام کی تفریح اور آرام کی طرف بہت کم توجہ دیتا ہے۔بریلوی کونسل کی پیشکش کی پیشکش شاد کے آخر مں وائٹ ایے نے میرے ساتھ ذکر کیا کہ شادی لال نے پروی کونسل کی عدالت سے استعفے دیدیاہے اور وزیر من دریافت کرتےہیں کہ کیا تم انکی جگہ لندن جانا چاہتے ہو؟ میں نے کہا سرفنڈ لیٹر اسٹورٹ نے میرے ساتھ اس امکان کا ذکر کیا تھا اور اس وقت میں نے نیم رضامندی ظاہر کی تھی۔لیکن مسٹر سنی مین کے مشن متعلقہ چیکوسلواکیہ کے ناکام ہونے کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ جنگ ناگزیہ ہے۔اسلئے میں اب لندن جانا نہیں چاہتا۔اسلئے نہیں کہ میں متوقع جنگ کی وسعہ سے لندن جانے سے ڈرتا ہوں وہاں سنگ کے دوران میں تو اور دوی کا حال ہو گا وہی میرا بھی ہو گا۔لیکن میرے لئے اس منصب میں یہ کشش تھی کہ لندن میں رہتے ہوئےمیں ملک کی آئینی ترقی کیلئے کچھ کوشش کر سکوں گا۔اور دوسرے ہندوستانی طلبا مقیم النگان کیلئے مزید سہولتیں بہم پنچانے میں مددکرسکوں گا۔سجنگ کی صورت میں ان امور کی طرف کوئی تو یہ نہیں رہے گی۔اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مجھے رہنا مجھے پسند نہیں۔"" وائسرائے۔یہ تو اچھا ہے کہ تم جانا نہیں چاہتے۔مسٹر جبکہ بہت رنجیدہ ہیں کہ سرتیج بہادر سپرد کو تو پراوی کونسل کی رکنیت کا اعزاز عطاہوا نمکین ان کی خدمات کو نظر انداز کی گی ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ سرشاری لال کی محبہ ان کا انتخاب ہو جائے تمہارے انکار سے ایک تو مٹر جیکر کی خواہش پوری ہو جائے گی۔دوسر ے میں چاہتا ہوں کہ تم سراین این سرکار کے جانے پر قانون کا قلمدان سنبھال لو اور میری میعاد کے پورے ہونے تک میرے رفیق کار ہو۔ظفر اللہ خاں۔آپ نے جو ارشاد فرمایا ہے اسکی تعمیل کے نتیجے میں مجھے ایک سال اپنی سجاد سے زائد ٹھہرنا ہوگا۔عام طور پر وزارت کی میاد کے ختم ہونے پر گر میاد می چھ ماہ سال بھر کی توسیع کی جائے تو زیر متعلق اسے خوشی سے قبول کرتا ہے کیونکہ وزارت کے ختم ہونے پر اسکا مزید کام کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا۔میری عمر اس وت پنتالیس سال ہے۔مجھے میاں کام ختم کرنے کے بد پرانی پریکٹس شروع کرنا ہوگی اور بقدر تاخیراس میں ہوگی اسی قدر میری وقت میں اضافہ ہوگا۔لیکن میں آپ کے اعتماد کی قدر کرتے ہوئے آپ کے ارشاد کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں۔