تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 23 of 736

تحدیث نعمت — Page 23

۲۳ خاکسار نے حتی الامکان آپ کی فرمودہ ہدایات کی پابندی کی اور بغض الل ان سے بہت فائدہ اٹھایا۔میاں حتمال صاحب اس وقت تک مسلہ احمدیہ میں بیعت نہیں ہوئے تھے۔اس موقعہ کو غنیمت جان کر انہوں نے حضور کی خدمت میں جمعیت کی درخواست کی حضور نے فرمایا آپ ابھی چند دن یہاں ٹھہریں۔انہوں نے اپنی دیہاتی سادگی سے عرض کیا حضور مجھے تو کل چودھری صاحب (والد صاحب) کے ساتھ واپس جانا ہے۔آپ نے مسکرا کر فرمایا ، تو پر آ بیعت بھی بچودھری صاحب کی کریں ہماری کیوں کرتے ہیں روانگی سے قبل صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کی خدمت میں حاضری صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب نے اریت دفرمایا کہمیں صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صانعت کی خدمت میں بھی حاضر ہو کر دعاء کیلئے گذارش کردیں۔چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دعاء کی یہ درخواست کی۔آپ نے بھی خاکسار کو نصائح فرمائیں۔دوسرے دن دوپہر کا کھانا ہمارے لئے حضرت ام المون نے کمال شفقت سے اپنے مبارک ہاتھوں سے تیار فرمایا۔فجزاها الله في الدارين خير و يجعل الله الجنة العليا ثواها۔والد صاحب کا یہ قادیان کا پہلا سفر تھا۔- انگلستان کا سفر امرتسر مینی تک پہلا سفر بذریعہ دیں۔امرت کے سٹین پر والدہ صاحبہ سے کو رخصت کیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ گاڑی کے رو انہ ہوتے ہی وہ بیہوش ہو گئیں اور چند گھنے اس حالت میں گذرے۔ان کی محبت اور شفقت کا سمندر بے پایاں اور میں تھا۔میں نے اس سے قبل لاہورا در مرسد سے آگے ریل کا سفر بٹانے تک تو کیا تھا لیکن امر تسر سے آگے جالندھر کی طرف یہ میرام بالندھر کی طرف یہ میرا مہیلا سفر تھا۔پھلور لدھیانہ، انبالہ سہماری پور، غازی آباد ، دلی وغیرہ سب میرے لئے نئے مقام تھے۔دلی کے اسٹیشن پر چودھری شمشاد علی خاں صاحب سے ملاقات ہوئی۔دلی سے آگے بھیٹی کا لمبا سفر جی آئی پی ریلوے کے رستے شروع ہو گیا۔والد صاحب کی محبت میرے لئے بہت تسکین کا موجب تھی لیکن دوران سفروہ بھی خاموش تھے اور میں بھی خاموش تھا۔امرتسر سے روانہ ہوکر دوسری صبح ہم دلی پہنچے اور اس کے دوسرے ون سر پر کو بھٹی پہنچ گئے۔کلیان کے اسٹیشن پر کٹ کٹر آیا اور مجھ سے ٹکٹ لیکر چلا گیا۔گاڑی چل پڑی تو میں کچھ شان ہوا کہ کٹ ککڑ نے ٹکٹ واپس نہیں کئے میں نے والد صاحب سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا لیکن انہوں نے کچھ نہ فرمایا۔ان کے لئے بھی سفر کا یہ حصہ ویساہی نیا اور غیر معرو نقل جیسا میرے لئے وکٹوریہ ٹرمینس پہنچے ٹکٹوں کا عقدہ حل ہوگیا۔گاڑی جہاں کی وہاں سے اتر کر مسافر پیدل یا وکٹوریہ غیر میں سوال ہو کر اپی اپنی جگہ کو روانہ ہو گئے کسی پھاٹک سے گزرنے کی ضرورت پیش نہ آئی اوپر نہ کہیں ٹکٹ دکھانا پڑا۔میرے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ان ایام میں ہندوستان سے باہر جانا ای نئی