تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 382 of 736

تحدیث نعمت — Page 382

کر میں عامر منی طور پر کام کر رہا ہوں اور مناسب نہیں کہ ہمیں اس قضیے میں دخل دوں۔میں غیر جاندا نہ نہ ہوں گا۔اتنے میں خان بہادر نادرشاہ نے اطلاع دی کہ ہماراسیون بھی گاڑی کے ساتھ لگا دیا گیا ہے اور گاڑی اب روانہ ہو نیوالی ہے میں سر گر با شنکر سے رخصت ہو کر اپنے سیلون میں چلا گیا کونسل کا اجلاس B ELVEDERE میں ہوا جہاں وائسرائے قیام پذیر تھے۔اجلاس سے قبل مجھے سرسبزی کریک اور سر جیمز گرگ سے بات کرنے کا موقعہ مل گیا۔سر سبزی کریک تو سر عبد القادر کی تائید پر رضامند ہو گئے۔سر میز گرگ نے کہا میں بھور کے تقریر کے سخت مخالف ہوں۔اس کے علاوہ جو نام تم تجوید کرد مجھے منظور ہو گا۔مجھے معلوم تھا کہ نوٹیں اور سر کار سر جوزف بھور کی تائید میں میں اسلئے ان سے بات کرنا بے سود تھا۔اعلان میں وائسرائے نے کہا وہ یہ بند کونسل کی رائے لندن میں آئندہ ہائی کمشنر کے متعلق معلوم کرنا چاہتے ہیں۔آپ اس معالے میں این آر بتادیں تاکہ یں انہیں مطلع کرد۔سرفر نیک نویس نے کہا آپ پہلے سرسوزن بھور کی سفارش کم کے میں کی یہ کافی نہیں وائسرائے نے فرمایا مری رائے وہ یہ بہن کو معلوم ہے اب وہ کونس کی رائے معلوم کرنا چاہتے کمانڈر انچیف۔مجھے ان معاملات کے ساتھ بہت کم سابقہ پڑتا ہے۔میری اس معاملے میں کوئی پختہ رائے نہیں۔سرفر نیک نو میں۔مجھے آپ کے ساتھ اتفاق ہے۔سر جوزف بھور نہایت قابل شخص میں اور انکی پہلی مرتا الیسی قابل قدر ہیں کہ میرے ذہن میں کوئی ایسا شخص نہیں تو ان کا مقابلہ کر سکے۔سر ابن ابن سمرہ کالہ۔مجھے نوٹ میں کے ساتھ اتفاق ہے۔سر جمیز گرگ۔میں بھور کے سخت مخالف ہوں۔وائسرائے۔آپ بھور کے خلاف ہیں لیکن کسی کے بھی میں ہیں ؟ سر جمیز گرگ۔میں بھور کو کسی صورت نہیں چاہا اور کسی کا بھی تقریر ہو جائے مجھے اعتراض نہیں۔سر سنہری کر یک۔میں سمجھتا ہوں اس وقعہ کسی مسلمان کا تقرر ہونا چاہیے۔میری رائے میں سر عبد القادر مورد ہوں گے۔سرفر نیک نو میں۔سرعبد القادر اور سر جوزف بھور کا بھلا آپس میں کیا مقابلہ ہے؟ سرسبزی کریک - سرعبد القادر قابل شخص ہیں اور صاحب نخرہ یہ ہیں۔پنجاب میں وزیر ، رکن عاملہ ، کونسل کے صدر ، ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں ، اور اب وزیر مندر کی مثادوستی کو قتل کے رکن ہیں۔سر جمیز گرگ۔مجھے سر ہنری کریک کے ساتھ اتفاق ہے۔میں نے کہا بائی مشترک و سے زیادہ میرے ساتھ کام کرنا پڑے گا اور مجھے اندیشہ ہے کہ سر توزف بجور کو مجھ پر اعتماد نہیں۔آپ کو یاد ہو گا کہ آپ نے اور وزیر سنہا نے بھی