تحدیث نعمت — Page 381
وزیہ ہند ہوئے۔دسمبر شہر میں مجھے سر فضل حسین صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ ہوا اور میں نے ان سے استصواب کیا کہ لندن میں ہائی کمشنر کے لئے موزوں ترین مسلمان کون ہو گا۔آپ نے فرمایا امیدوار تو بہت ہیں، سر یافت حیات خان ، سه فروند خان نون و غیرہ لیکن سر عبد القادر کا انتخاب مناسب ہو گا۔شیخ سر عبد القادر صاحب اس وقت وزیہ ہند کی مشاورتی کمیٹی کے رکن تھے اور لندن میں مقیم تھے۔ان دنوں دستور تھاکہ کرسمس کے موقعہ پر اس لئے کلکتہ تشریف لے جاتے تھے اور کونسل کا ایک اجلاس آخر دسمبر یا شروع مجبوری میں دواں ہوتا تھا۔اس اجلاس کیلئے میں پنجاب سے کلکتہ جانتے ہوئے ایک دن پٹنہ ٹھہرا۔کونسل کے اجلاس کا ایجنڈا مجھے دیاں ملاحوں میں ایک مسلہ بائی کر کے انتخاب کا بھی تھا۔میں اسمارات کنہ جانیوالا تھا کونسل کا اجلاس دوسرے دن صبح کو ہونا تھا اسلئے ایجنڈا پڑھ کرمجھے تشویش ہوئی کیونکہ اپنے رفقاء کے ساتھ مشورے کے لئے کوئی وقت نہیں تھا۔کنور سر جگدیش پر شاد جن کے ساتھ میں بے تکلفی سے بات کر سکتا تھا پنی بیگم صاحبہ کی علالت کی وجہ سے بھٹی پر تھے اورانکی ملکہ سگر اشنکہ باجپائی کام کر رہے تھے۔میں نے خان بہادر نادر شاہ سے کہا کہ اسٹیشن پر پہنچے ہی معلوم کریں کسی اور وزیر کا سیلون بھی اس میں ٹرین کے ساتھ کلکتہ جارہا ہے یا نہیں جس سے ہم جانیوالے ہیں۔اسٹیشن پر پہنچ کر نہوں نے بتایاکہ سر ماشنکہ باجپائی کا سیلون کاری کے ساتھ آرہا ہے مجھے پیس کر کچھ اطمینان ہوا کہ ان سے کچھ پس منظر اس معاملے کا معلوم ہو جائے گا۔وہ ۱۹۳۳ ء میں محکمہ تعلیم کے سیکریٹری کے طور پر مرے ساتھ کام کر چکے تھے اور مجھے معلوم تھا کہ وہ سر توزف بھور سے کچھ آزردہ تھے۔سر توزن بھور شاہ جارج پنجم کے جشن سیمیں میں بطور نمائندہ حکومت ہند شامل ہوئے تھے۔میاں سر فضل حسین نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ اس موقعہ پہ کامن ویلتھ کے تمام وزراء عظام لندن میں موجود ہوں گے اور بیرون مند رہنے والے ہندوستانیوں کیلئے مراعات اور مساوات کے حصول کی سعی کیلئے یا چھا موقع ہوگا۔لہذا ہر ہواگر آپ سرگز جاشکر کو ساتھ لے جائیں۔وہ اس معاملے میں آپ کے مشیر و معاون ہوں گے۔سر جوزف نے کہا میں بڑی خوشی سے یہ کام اپنے ذمے لینے کو تیار ہوں لیکن سرگر جاشنکر کے میرے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں ! طبعا یہ امر سرگہ جاشنکر کو ناگوار ہوا تھا جیب دریل پٹنہ پہنچی تو میں سرگر جاشتکار کے سیلون میں چلا گیا۔وہ اپنے سونے کے کمرے میں جاچکے تھے اطلاع ہونے پر فوراً تشریف لے آئے اور باتوں باتوں میں انہوں نے خود ہی ہائی کمشنر کے فقر کا ذکر چھیڑ کر فرمایا کیا مناسب نہ ہوگا کہ ایک باله کسی موزوں سلمان کا تقرر ہو۔میں نے کہا طبائیں تو اس بات کا خواہش مند ہوں لیکن مجھے معلوم ہوا ہے وائٹ لئے صاحب سر جوزف بھور کی سفارش کر چکے ہیں۔باجپائی کہنے لگے سرسوزن بو تو اپنے آپکو ہر عہدے کیلئے موزوں ترین خیال کرتے تھے۔انہیں یہ خیال بھی نہ آیا کہ وزیہ تجارت ہوتے ہوئے وائسرائے سے اپنی سفارش اپنے ایک ماتحت عہد کیلئے بھوانا نہا نا مناسب فعل ہوگا۔میں نے پو چھا پھر تو آپکی رائے انکے حق میں نہ ہوگی ؟ کہنے لگے چودھری صاحب میرے لئے مشکل ہے