تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 376 of 736

تحدیث نعمت — Page 376

ہیں۔اور اسی درجے سے ملازمت شروع کر کے اپنے موجودہ معزز مناصب پر پہنچے ہیں۔جس دن سے آپ نے ملازمت شروع کی آپ کو ریل کا سفر کرنے کیلئے اول درجے کا پاس میسر رہا۔جیسے جیسے آپ کی ملازمت کا عرصہ گزرتا گیا آپ کو پہلے آٹھ پہیوں والا اور پھر سولہ پہیوں والا سیلون میسر آتا گیا۔مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں پر شخص کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں مناسب سہولتیں میر آنی چاہئیں میں فقط یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جہاں میں ان شعیوں کے متعلق مین کا آپ کو یہ یہ ہے نابلد در کوبرا و دانی تو اس میں آپ کہنا چاہتا ہوں وہ آپ کیلئے نٹی اور چنا ہوں گی۔لیکن میں تو کچھ بھی کہوں گا ذاتی تجربہ کی تاکہ کہوں گا اور واردات میری ذات پر گری ہوگی۔یامیں نے اسے اپنی آنکھوں سے کسی اور پر گزرتے دیکھا ہو گا۔مں محض شنید سے کچھ نہیں کہوں گا۔میں نے ریل کے ہر درجے میں سفر کیا ہے اوراب بھی مجھے کسی درج میں سفر کرنے میں اک نہ ہوگا۔میں موقعہ دیکھ کر میرے درجے میں بھی سفر جاری رکھوں گا۔ایک تو اس لئے کہ میری عادت نہ بھاتی رہ ہے۔دوستہ اس لئے کہ میں دیہاتی ہوں اور میرے بہت سے عزیز رشتہ دار اور دوست دیہاتی ہیں اور میرے درجے میں سفر کرنے کے عادی ہیں اور میں بعض دفعہ ان کے ساتھ سفر کرتا ہوں۔اور میرے اسٹے بھی کہ اب مرا فرض ہے کہ یں دیکھتا ہوں کہ میر ہے درجے کے مسافروں کی طرف مناسب توجہ ہو رہی ہے یا نہیں۔پہلی بات جو میں آپ صاحبان کی خدمت میں گذاری کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ ریل کا محکمہ بیشک حکومت کا ایک محکمہ ہے۔لیکن ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ ہم تموت کے افسر نہیں اگر چہ بھی تویہی سکھایا گیا ہے کہ حکومت کا ہر افسر سیلک کا منادم ہے لیکن ریل کے افسروں پر تو خصوصیت سے یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔ہم گاڑی بان ہیں اور سہیل کے مسافروں کے خادم ہیں۔ہم کہ سی پر حکومت کرتے کیلئے انہیں بیٹھے۔خدمت کرنے کیلئے میٹھے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کر دل کے محکمے کو اچھی طرح چاہے سے صرف یہ مراد نہیں کہ گاڑیاں اچھی اور صاف ستھری ہوں۔ریلیں تیز چلیں اور وقت پر روانہ ہوں اور وقت پر پنچایت یہ سب کچھ بھی بلاشبہ ضروری ہے۔لیکن ان سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ سر درجے کے مسافر جن میں سب سے بڑی تعداد تیسرے درجے کے مسافروں کی ہے آرام سے سفر کریں۔اور انہی کسی قسم کی پریشانی کا سامنانہ و افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں تیسرے درجے کے مسافروں کی ایک بہت بڑی کرت اب تک ان پڑھ ہے۔وہ آپکی ہدایتوں کے بور نہیں پڑھ سکتے سفر و ہر شخص کیلئے پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔لیکن ان ندا کے بندوں کے لئے بہت ہی پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔سٹیشن پر پہنچتے یں تو نہیں جانتے ان کی منزل مقصود کو جانیوالی گاڑی کی آئے گی ملک روانہ ہو گی ، الٹ گن کی کھلے ا کرایہ کیا ہوگا ، کتے کیش رستے میں ہوں گے ، زل پر پہنچے گی، اگریہ اور بی سیشن ہو تو انہیں یہ بھی علوم نہیں ہونا کہ کٹ کر کہاں ہے، پلیٹ فارم کدھر ہے، اسٹیشنوں پر میرے درجے کے ماروں کیئے جانظار کرنے کی جگہ بنی ہوتی ہے اس کے گرد اس قم کی باریں اور سانیں ہوتی ہیں کہ ساغروں کو خیال ہوتا ہے انہیں حوالات میں نے