تحدیث نعمت — Page 375
ہوئی بعیدہ آباد ہی میں انشاد فن ہوئے۔چونکہ موصی تھے بعد میں میں نے ان کی نعش کو قادیان پہنچانے اورپشتی مقبرہ میں دفن کئے جانے کا انتظام کر دیا۔یغفر الله له ويجعل الله الجنة العليا مثواه - ان کی یاد آج تک دل کو گرہ مانتی ہے اور لفضل اللہ ان کے لئے دعائے مغفرت میں کبھی ناغہ یا کوتاہی نہیں ہوئی۔پیارے افسران کی کا نفرنس میں ہندوستان کی جملہ ریلونیہ کی کانفرنس ایسوسی ایشن کا اجلاس سال میں شمولیت اور ان سے خطاب دوبارہ ہوا تھا۔ایک بار ملے میں ایک بارہ دلی میں میرے چارج لینے کے بعد جب شملے میں اجلاس ہوا تو سابق دستور کے مطابق میں بحیثیت وزیہ ریلوے ایسوسی ایشن کے بڑے ڈینز کے موقعہ پر مہمان خصوصی تھا۔نارتھ ویسٹرن ریلوے کے ایجنٹ مسٹر ہائٹ اس اجلاس کے صدر تھے۔میں نے حنیف شہر سے کہا کہ ڈنر کے موقعہ پر تو سمی تقریریں ہوں گی۔میں چاہتا ہوں کہ کا نفرنس کے اجلاس کے دوران میں میں کا نفرنس کے اراکین سے خطاب کروں۔آپ اس کا انتظام کر دیں۔انہوں نے انتظام کر دیا۔ساتھ ہی کہا کہ تم سے۔ے وزرا و ریلوے کے محلے میں کوئی زیادہ دیسی نہیں لیتے ہے۔ریلوے افسران کو یہ عمل کر کے یہ اطمینان ہوا ہے کہ تم ان سے خطاب کرنا چاہتے ہو اور وہ بڑے شوق سے تمہارے خطا کے منتظر ہیں۔میں وقت مقررہ پر اجلاس میں حاضر ہو گیا۔میں نے کہ رکھا تھاکہ میری تقریر کے وقت صرف افسران اسلامی کے کمرہ میں موجود ہوتی سیکہ بڑی سٹینو گرافر، چرا سی کوئی کمرے میں موجود نہ ہو۔یہ سب افسران عمر میں مجھ سے بڑے تھے۔ان میں بھاری کثرت یور این افسران کی تھی۔خال خال کوئی ہندوستانی بھی تھا۔ہر ایک ان میں سے اپنے اپنے فن میں ماہر اور صاحب تجربہ تھا۔میں ہی ان میں ایک ایسا تھا اور میوے کے وسیع محکمے کے متعدد شعبولی میں سے کسی کا جزیہ نہیں رکھا تھا۔ان کی نگہمی یہ بڑی جرات اور حوصلے کا کام تھا کہ مں ان سے کچھ سیکھنے یا معلوم کرنے کے ے ہیں کہ انہیں کھانے کیلئے مضر ہوا تھا مجھ سے پہلے مرے کسی پیش رونے ایسا نہیں کیا تھا۔ایک وہ شوق سے منتظر تھے کہ دیکھیں یہ نابلد ہم سے کیا کہنا چاہتا ہے۔میں نے انہیں کچھ اس طرح خطاب کیا۔صاحبان ! میں آپ کا نہایت ممنون ہوں کہ آپ نے اپنے نہایت قیمتی اوقات میں سے جب آپ اہم امور ادر سائل کے متعلق تیارہ خیالات اور مشورے کیلئے جمع ہیں کچھ وقت میری باتیں سنے کیلئے نکال لیا ہے۔میں آپ کی خدمت میں ان عوام کے نمائندے کے طور پر حاضر ہوا ہوں جن کے آپ اور میں خادم ہیں اور جو آپ کے گاڑی بانی کے کاروبار کے سب سے بڑے گاہک ہیں۔یعنی تیسرے درجے میں سفر کر نیوالے سافر۔ان خدا کے بندوں کے ساتھ آپ کی ریلوں پر کیا سلوک ہوتا ہے اس کا آپ یں سے کسی کو کوئی ذاتی تجربہ نہیں نہ والی علم ہے۔ممکن ہے آپ کو یہ وہم ہو کہ آپ ان کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں لیکن جو علم بھی آپ کو ان کے متعلق ہے وہ شہید ہے اور سرسری ہے۔اس لحاظ سے میں آپ کے مقابلے میں صاحب علم اور صاحب تجربہ ہوی۔آپ سب ریلوے کی اعلیٰ ملازمتوں کے افسر و