تحدیث نعمت — Page 360
ایک مفید گروہ احمدیہ مسجد کے دروازے پر آر جمع ہوگیا اور نماز ختم ہونے پر جب انہی مسجد سے نکلے تو ان پرحملہ کر دیا۔میرے بھائی کو سر پر چوٹیں آئیں جن سے کچھ خون بھی نکلا وہ دوڑ کر اپنے زنانہ مکان میں داخل ہو گئے اور کوار اندر سے بند کردیئے مفسدوں نے مکان کا محاصرہ کر لیا اور دروازہ توڑنے کی کوشش شروع کر دی۔دروازہ بہت مضبوط تھا ان کی سعی کارگرنہ ہوسکی۔یہ صورت حالات نصف شب تک رہی۔اسی اثناء میں عزیزہ شکر اللہ خاں نے پولیس افسر کے نام ایک رقعہ لکھا جس میں صورت حالات بیان کی اور مکان کے عقب سے ایک ہمدرد پڑوسی کے ہاتھ تھانے بھجوا دیا۔پولیس افسر نے بے اعتنائی سے رقعہ پھینک دیا اور کہا ہونے دو جو ہوتا ہے۔لیکن ایسے واقعہ پر پردہ تو نہیں ڈالا جا سکتا تھا۔پولیس والوں نے تفتیش شروع کی۔ان کے رویے سے ظاہر تھا کہ وہ منبہ داری سے کام لے رہے ہیں۔میں نے سر ڈونلڈ بائیڈر کین عاملہ پنجاب کو لکھا کہ ضلع سیالکوٹ کے سپرینڈنٹ پولیس کے سابقہ رویے سے ظاہر ہے کہ انہیں جماعت احمدیہ کے ساتھ اور خصوصا میرے خاندان کے ساتھ عناد ہے اور اس واقعہ کے دوران میں اور اس کے بعد لوکل پولیس افسر کا رویہ بھی جنبہ داری کا نہ ہا ہے۔ان حالات میں مناسب ہو گا کہ اس واقعہ کی تفتیش کے دوران میں سپر انٹ یں اچھی پر لے جائیں ان کا تبادلہ کردیا جائے تاکہ یہ اطمینان ہے کہ تفتیش غیر جانبدارانہ طریق سے ہوگی۔اس خط کے لکھنے کے چند دن بعد وائی ائے لارڈ لنلتھگونے مجھ سے دریافت کیا کیا کوئی آپ واقعہ ہوا ہے جس کے متعلق تم نے سر ڈونلڈ بائیڈ کو خط لکھا ہو؟ میں نے مختصر واقعہ بیان کیا اور کہا ان حالات میں میں نے اس مضمون کا خو سر ڈونلڈ کو کھا ہے۔دائرے نے کہا آن گورنر پنجاب تمہار وہ خالیکر مرے پاس آیا تھا اور کہا تھا کہ اس خط میں اس کے پولیس افسروں پہنا واجب الزامات عاید کئے گئے ہیں۔اور اب اس کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ ان الزامات کی اصلیت ظاہر کرنے کے لئے پبلک تحقیقات کا انتظام کرے۔میں نے کہا مجھے یہ سنکر بہت اطمینان ہوا ہے گورنہ کو جماعت احمدیہ کے متعلق شبہ ہے کہ یہ ایک سرکش جماعت ہے جس سے حکومت کو خطرہ ہے۔جماعت احمدیہ کو شامات ہے کہ گورنر اور حکومت کے بعض افسران کا رویہ جماعت کے متعلق غیر ہمدردانہ اور غیر منصفانہ ہے پلک تحقیقات کے نتیجے میں حقیقت واضح ہو جائے گی۔اگر ہماری شکایت بے بنیاد ثابت ہوئی تو ہمارے لئے اطمینان کا موجب ہو گا۔اگر گورنہ کے نشہ کی تائید ہوئی تو ہم اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں گے۔آپ کے لئے بھی کوئی وقت نہیں ہوگی۔جو نہی گورانہ تحقیقات کے فیصلے کا اعلان کریں گے میں کونسل سے مستعفی ہو کر جماعت احمدیہ کی طرف سے تحقیقاتی کمیشن کے رو برو سپری کردوں گا۔وائسرائے نے کہا میں تمہاری مشکل کا اندازہ کر سکتا ہوں اور مجھے تم سے ہمدردی ہے۔خود میرے خاندان کو سکاٹ لینڈ میں ایک لمبے عرصہ تک اپنے مذہبی عقائی کی خاطر سختی برداشت کرنی پڑی تھی اور مخالف حالات کا مقابلہ کرنا پڑا تھا میں نے گورنر سے کہہ دیا ہے کہ یہ حیثیت گور نہ منزل میں ایسی تحقیقات کی اجازت نہیں دے سکتا تم سے بھی کہتا ہوں کہ تم مخالف حالات کو بر سے برداشت کرتے جاؤ۔میں جہاں تک مکن ہوگا تمہاری ہمدردانہ مرد در نای کردوں گا۔جب ایسے الے