تحدیث نعمت — Page 355
" قادیان کی احمدی آبادی ایک وسیع رقبے میں بکھری ہوئی تھی۔حکومت کی طرف سے قیام امن کا کوئی انتظام نہ تھا اور ن عام حالات میں کسی خاص انتظام کی ضرورت مفتی حالات پیش آمدہ کے مدنظر تو دھری فتح محمد سیال صاحب ناظر امور عامہ نے ارد گرد کی جماعتوں کے نام پٹھیاں لکھیں کر دہ ایک مقررہ تعداد ایسے افراد جماعت کی قادیان بھیج دیں جو کا نفرنس کے ایام میں حفظ امن کے سلسلے میں خدمت بجالائیں۔اس طور یہ پہلے بھی جب کبھی حفظ امن کے متعلق خدشہ میں پیدا ہوتا رہا انتظام کیا جاتا تھا۔اور فضل اللہ کی کوئی ناگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔اس موقعہ پر ڈپٹی کمشنر صاحب نے ناظر امور عامہ صاحب کو ہدایت دی کہ یا ہر سے کسی کو نہ بلایا جائے۔ناظر امور عامر نے کہا اگر حکومت حفظ امن کی ذمہ داری نخود لے لے اور اس کا خاطر خواہ انتظام کر دے تو ہم ممنون ہوں گے اور ہمیں کسی خاص انتظام کی فروند نہ رہے گی۔ڈپٹی کمتر صاحب نے کہا حکومت کو حفظ امن کے متعلق کوئی خدشہ نہیں اور حکومت کسی خاص انتظام کی ضرور محسوس نہیں کرتی۔ناظر امور عامر نے کہا۔چونکہ کہیں اس بار ے میں خدشہ ہے اسلئے ہمیں اندراہ احتیاط با ہر سے بہرہ وغیرہ کیلئے آدمی منگوانے کی ضرورت ہے۔جب ڈپٹی کمشنر صاحب کی طرف سے یہ ریوریٹ حکومت کو پہنچی تو حکومت کی طرف سے حضرت امام جماعت احمدیہ کے نام کریمینل اور اینڈمنٹ ایکٹ کے ماتحت نوٹس جاری کیا گیا کہ وہ باہر سے اراد جماعت کا کانفرنس کے دنوں میں قادیان آنا بند کر دیں اور اگر کوئی فر جماعت ان ایام میں با ہر سے قادریان آئے تو اس کے قیام و طعام کی کوئی سہولت ہم نہ پہنچائی جائے۔یہ نوٹس نہ صرف فرعونیت کا مظہر تھا ملکہ وہ تورات ذیل نا واجب بھی تھا۔دا ، قادیان میں جو اکنان عالم کی احمدیہ جماعتوی رنچھوٹی ہوں یا بیٹی کا مرکز تھا مجلس احرار کو جو مسلم طور پر جماعت احمدیہ کی دشمن بھی اور میس کی طرف سے بارہ با اعلان ہو سکا تھا کہ وہ مخمر یک احمدیت کو کچل کر رکھ دی گی ایک تبلیغی کا نفرنس کی اجازت دیدی گئی۔(۴) اس کانفرنس میں شمولیت کی غرض سے (خواہ آنے والے کا حقیقی مقصد کی ہی مفدا نہ کیوں نہ ہوا ہر شخص قادیان آنے کا مجا نہ تھا کسی قسم کی پا بندی نہیں تھی۔(۳) جس جماعت کا مرکزہ قادیان تھا اس کے افراد کو کانفرنس کے ایام میں قادریان آنے کی اجازت نہیں تھی خواہ ان کے دل کس قدر مضطرب اور بے چین ہوں کہ معلوم نہیں احرار کے کیا منصوبے ہیں اور قادیان میں کیا ہوتا د نوٹس ناظر امور عامہ صاحب کے نام جاری نہ کیا گیا منی کی طرف سے جماعتوں کے نام خطوط بھیجے گئے تھے بلکہ حضرت امام جماعت احمدیہ کے نام بھیجا گیا جن کا براہ راست ان کے بھیجے جانے میں کوئی حصہ نہیں تھا۔اس۔۔سے ظاہر تھا کہ اس ٹویٹ کی عرض حضرت امام جماعت احمدیہ کو گرفت میں لانا تھی۔مجلس احمرار کی یہ نام نہاد تبلیغی کانفر نسن قادیان میں منعقد ہوئی۔جماعت احمدیہ کا تو کوئی فرد کانفرنس کے نزدیک بھی نہ گیا۔معلوم نہیں تبلیغ کا تختہ مشق کے بنایا گیا۔گورینہ نے بعد میں خود مجھ سے کہا کہ کانفرنس میں