تحدیث نعمت — Page 19
لنے کے لئے کوئی حرکت نہیں کی تھی کہ حضور نے کروٹ پر لیٹے لیٹے ہی اپنا بازو اٹھا کر خاکسارہ کے چہرے کو اپنے مبارک چہرے کے قریب کر لیا اور دو تین منٹ تک اسی حالت میں رکھا۔پھر اپنا بازو ٹالیا اور فرمایا۔یہاں ہم نے تمہارے لئے بہت بہت دعائیں کی ہیں۔" حضرت خلیفہ المسج اول کی خدیت مزیتعلیم کیے انگلستان جانیکی اجازت کی درخواست۔اپنی دونوں میں میرے والد صاحب نے اپنے خط میں مجھے ارشاد فرمایا کہ حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں گذارش کرد کہ مجھے بفضل اللہ امتحان میں کامیابی کی امید ہے اور کامیابی کی صورت میں میرے والد صاحب کی خواہش ہے کہ اگر حضورا اجازت عطافرمائیں تو مجھے مزید تعلیم کیلئے انگلستان بھیج دیں اسلئے ا حضور کی خدمت میں اجازت کی اور دعا کی درخواست ہے۔میں نے یہ عرض داشت لکھ کر حضوں کی صفات میں پیش کر دی۔آپ نے مزید تعلیم کیلئے انگلستان جانے کے متعلق فرمایا۔آپ بھی اور آپ کے والد صاب بھی استخارہ کریں۔پھر اگر اطمینان ہو تو اجازت ہے؟ انہیں ایام میں سیالکوٹ کے دو اور طلبا نے بھی محفور سے انگلستان جانے کی اجازت چاہی۔لیکن حضور نے پسندنہ فرمایا۔میں نے قادیانیہ میں استخارہ شروع کردیا دوسری یا تیسری رات کو ابھی سو یا ہی تھا کہ ایسے محسوس ہوا کہ کوئی شخص میری چار پانی کے پاس کھڑا ہے۔اور مجھے مخاطب کر کے اس نے کوئی بات کہی ہے جس کا پہلا حصہ تومیں سن نہیں سکالیکن آخری الفاظ جو سنے وہ تھے۔توپھر انگلستان جاؤ۔اس سے مجھے تو اطمینان ہوگیا کہ بفضل اللہ میرا انگلستان جانا فائدہ مند ہو گا۔اس بات میں میری اپنی خواہش کا چنداں دخل نہیں تھا کیونکہ مجھے انگلستان جانے کا کوئی شوق نہ تھا۔بلکہ میں والدہ مخرمہ کی پریشانی کا خیال کر کے انگلستان جانے سے کچھ گھبراتا تھا۔ایک بالکل نئے ماحول اور نئی معاشرت کے خیال سے بھی طبیعت میں پریشانی ہوتی تھی۔بی اے کے امتحان میں اول درجے میں کامیابی۔میں ابھی قادیان ہی میں تھا کہ ایک روز حضرت خلیفہ المسیح اول کی مجلس سے دو پہر کے کھانے کیلئے صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان پر رجہاں میرا قیام تھا، پہنچتے ہی مجھے شیخ مبارک اسماعیل صاحب کا خط ملا جو انہوں نے لاہور سے لکھا تھا کہ امتحان کا نتیجہ نکل گیا ہے اور تم پاس ہو گئے ہو۔خط میں انہوں نے میرے نمبر بھی درج کئے تھے جس سے معلوم ہوا کہ میں بفضل الله اول درجے میں پاس ہوا تھا۔فالحمد للہ علی ذالک۔میں خط پڑھتے ہی الٹے پاؤں حضرت خلیفة المسیح اول کی فرودگاہ پر حاضر ہوا اور خط حضور کی خدمت میں پیش کر دریا حضور دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور دعادی۔اس دن سہ پہر کی مجلس میں جو کوئی بھی حاضر ہو تا حضور اسے فرماتے۔آج ہم بہت خوش میں یہ امتحان میں پاس ہو گئے ہیں اور تعجب ہے کہ انہیں پہلے ہی معلوم تھا کہ پاس ہو جائیں گے " بعد میں