تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 18 of 736

تحدیث نعمت — Page 18

A دیتے۔لیکن آپ کا دربار تو ہر وقت ہر کس وناکس کیلئے کھلا ہوتا تھا۔درمیان میں کوئی سائل یا حاجتمند آناتو اس کی طرف توجہ فرماتے۔اگر دفترسے کوئی کاغذ آجاتا تو اس پر حکم صادر فرماتے۔غرض ایک سلسلہ تمام وقت جاری رہتا۔ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ شیخ صاحب نے ایک حدیث پڑھی اور اس کے متعلق کوئی سوال کیا۔اتنے میں حضور کی توجہ کسی اور طرف ہو گئی تھی۔آپ نے وہ سوال نہ سنا۔جب آپ فارغ ہوئے اور شیخ صاحب کی طرف متوجہ ہوئے تو شیخ صاحب نے اگلی حدیث پڑھ دی۔آپ نے فرمایا پچھلی حدیث میں فلاں بات قابل غور تھی۔شیخ صاحب نے کچھ شکوے کے رنگ میں کہا میں نے دریافت تو کیا تھا آپ نے جواب نہ دیا میں نے خیال کیا بتانا نہیں چاہتے۔خاکسار کو شیخ صاحب کی اس حرکت پر تعجب ہوا۔لیکن حضور کرا دیئے اور کہا۔شیخ شفا ہو گیا تھوڑی دیر کے بعد ایک اور واقعہ ہوا۔جو بالکل اس واقعہ کی ضد اور کمال ادب کی مثال تھا۔مولوی غلام بنی مصری صاحب جو آپ کے ایک ممتاز شاگرد تھے دالان کے پائین میں صحن کی جانب سے داخل ہوئے اور اسلام علیکم کہ کرانے کی دیوار میں تو الماری تھی اس کی طرف بڑھے۔الماری سے کوئی کتاب لیکر میں دروازے سے داخل ہوئے تھے اس کی طرف لوٹے۔دروازے کے قریب پہنچے توحضرت خلیفتہ المسیح نے آپ کو دیکھ کر فرمایا مولوی احب السلام علیکم۔مولوی صاحب نے "حضور وعلیکم السلام “ کہہ کر کمال انکسار کے ہجے میں عرض کی۔نگا کسار نے السلام علیکم کہا تھا لیکن حضور تک پہنچانہ سکای" برسوں بعد مولانا روم کا یہ شعر نظر سے گذرا۔از خدا جوئیم توفیق ادب ہے بے ادب محروم ماند از فضل رب آنکھیں نم ہوئیں اور دل حسرت سے بھر گیا کہ معلوم نہیں غفلت اور نادانی میں کتنے مواقع جذب فضل کے گنوادیے۔ربَّنَا لَا تَوَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَانَا - دوپہر کے وقت ڈاکٹر صاحبان آپ کے زخم پر مرہم پٹی کیلئے حاضر ہوتے اور مجلس یہ خاست ہو جاتی۔ڈاکٹر صاحبان کے رخصت ہو جانے کے بعد آپ کچھ دیر استراحت فرماتھے۔اس وقت آپ کے شاگردوں میں سے کوئی ایک آپ کی پیٹھ کی طرف پلنگ پر بیٹھ جانا اور آہستہ آہستہ آپ کا بدن دیا تا۔ایک روزہ ایسا اتفاق ہوا کہ ڈاکٹر صاحبات کے رخصت ہو جانے پر صرف خاکسار ہی دالان میں حاضر رہ گیا۔شوق اور اخلاص کہتا تھا کہ یہ موقع خدمت کا غنیمت ہے۔حجاب اور ادب روک رہے تھے۔خاکسار کو کبھی بدن دبانے کا اتفاق بھی نہیں ہوا تھا یوں تھا کہ بجائے حضور کیلئے آرام کا موجب بننے کے بیزاری کا باعث نہ بنوں۔آخر ہجرت کر کے حصول ثواب کی نیت سے خاکسار نے حضور کا بدن دبانا شروع کیا۔چند منٹوں کے بعد خیال آیا کہ شاید حضور کی آنکھ لگ گئی ہے اور میرا بان دباتے رہنا حضور کے آرام میں مخل ہو گا۔اس خیال سے خاکسر نے دبانا بند کر دیا۔ابھی خاکسار نے پلنگ سے