تحدیث نعمت — Page 335
۳۳۵ چیف جسٹس صاحت ہے کہدیں کہ میں ان کا ممنون ہوں لیکن مجھے جی کی کوئی خواہش نہیں۔جی تو میں یوں بھی قبول نہ کرتا لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ سر شادی لال چاہتے ہیں کہ میں ہائی کورٹ کا جج بن جاؤں۔تو میری طبیعت میں یہ بات اور بھی پختہ ہوگئی کہ مجھے جی نہیں لینی چاہیئے۔اگر سر دی لال صاحب مجھے ہائی کورٹ کا جم مقرر کرنے پر آمادہ تھے تو یہ اسبات کا ثبوت تھا کہ جی کا عہدہ میرے لئے موزوں نہیں رہا۔کچھ دنوں کے بعد خان بہا در شیخ دین محمد صاحب میرے دفتر ملی تشریف لائے اور فرمایا ہائی کورٹ میں حج کی ایک جگہ خالی ہونے والی ہے حسیں یہ ایک مسلمان کا تقرر ہو گا۔میں نے سر سبزی کہ ایک سے رہو اسوقت پنجاب میں رکن عاملہ تھے ) اپنے متعلق ذکر کیا ہے۔وہ کہتے ہیں اگر غفراللہ کی خواہش جی پر تقرب کی ہوتو پر کسی اور ے متعلق غور کی گنجائش نہیں۔لیکن اگردہ بھی نہیں چاہتے توان تصور میں میں تمہاری تائید کر دوں گا۔تم صفائی سے مجھے تبادو تمہاری کیا مرمتی ہے تا کہ اگر منا رہی خواہش ہو تو میں اس سلسلے میں کوئی سعی نہ کروں۔میں نے انکی خدمت میں گذارش کی کہ مجھے بھی کی کوئی خواہش نہیں اور مجھے ان کے فقر سے خوشی ہو گی۔وائسرائے کی طرف سے پنجاب ہائیکورٹ کے متھوڑے عرصہ بعد مجھے دلی جانے کا اتفاق ہوا۔والنشر چیف جسٹس کے عہدہ کی پیشکش سے ملاقات ہوئی۔فرمایا تم چارسال سے گول میز کانفرنس کے سلسلہ میں کام کر رہے ہو۔چار ماہ میرے ساتھ بھی تم نے کام کیا ہے۔میں چاہتا ہوں اپنی دائر ریلی کی میعاد ختم کرنے سے پہلے تمہارے لئے کچھ کر سکوں میں نے عرض کیا ان کی یہی خواہش ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالی عزت کی روندی عطافرماتا جائے سودہ اپنے فضل رحم سے مجھے عطا کہ یہ ا ہے میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ کو میرا خیال ہے لیکن آپکو میرے متعلق فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔کہنے لگے اچھا یہ تباد سر شادی لال کے بھانے کے بعد تم لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس ہونا پسند کرو گے ؟ میں نے کہا یہ عہدہ بہت عزت اور ذمہ داری کا ہے اگر مجھ سے یہ خدمت لینا مطلوب ہو تو مجھے عذر نہیں ہو گا لیکن ہمیں اس کے لئے تگ و دو کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔فرمایا تم میں آنا کرو کہ ایمرسن سے بات چیت کر لو۔(سر پر بیٹ ایمرسن اس وقت گورنر پنجاب تھے ) میں نے کہا میں بادب گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ میرا ایسا کرنا اس عالی منصب کے وقار کے لحاظ سے نامناسب ہے اور اپنی طبیعت کے لحاظ سے بھی میں ایسا کرنے سے معذور ہوئی۔انہی ایام میں ہر بائی سن سر آغا نمان دلی تشریف لائے اور تین دن وائسرائے کے ہاں مہمان رہنے کے بعد اس بنگلے میں تشریف لے گئے تو آپ کی رہائش کیلئے تیار کیا گیا تھا۔میں بھی ملاقات کیلئے حاضر ہوا۔دیکھتے ہی کمال شفقت سے بڑھ کر معانقے کا شرف بخت اور بڑی مسرت کے لہجے میں فرمایا مجھے تم پر فخر ہے۔مجھے تم پر یہ فخر ہے۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔فرمایا میں وائسرائے کے ہاں کھڑا ہوا تھا یہ ہیں۔معلوم ہے میری ان سے بڑی بے تکلفی ہے۔دورانِ گفتگو میں وائسرائے نے مجھ سے کہا مجھے چودہ سال منادرستی