تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 334 of 736

تحدیث نعمت — Page 334

۳۳۴ ستان میں لوندو کا من و لینے کی رسمی رئیسہ ضرور سلیم کی جاتی ہیں لیکن یہ ایک بے حقیقت رشتہ ہے جس کے کوئی نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کرکے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ایک تیرے ملک کے خلاف جنگ میں غیر جانبدار رہنا تو الگ رہا کامن ویلتھے کے دو ملکوں کے درمیان عملاً جنگ بھی ہوسکتی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اگر یہ کامن وینہ کانام تو ابھی تک باقی ہے۔لیکن اس نام میں اب کوئی حقیقت باقی نہیں۔برطانیہ اور کامن ویلتھ کے رہے پرانے مالک یعنی کنیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کامن ویلتھ کے نظریے کو گلے پڑے ہوئے ڈھول کی طرح بجائے چلے جارہے ہیں۔اس کانفرنس کے دوران میں بین شخصیات کے ساتھ واقفیت ہوئی ان میں سے سٹرالی نوٹ بیکر کے ساتھ میرے دوستان تعلقات قائم ہو گئے اور مرور زمانہ کے ساتھ مضبوط ہوتے چلے گئے مسٹرونٹ میسی کو میں کچھ عرصہ پہلے سے جانتا تھا۔وہ لنڈ میں کینیڈ کمائی کمر تھے اور بعد می کینیڈا کے لیے کینیڈین گورنر جنرل ہوئے۔ہارٹ ہاؤس کی عمارت ٹو ٹویوٹی و انہیں کے خاندان کا طیہ ہے۔ٹورنٹ یونیورسٹ کی طرف سے کانفرنس کے اعزاز میں انور کی میوزیم میں شام کے وقت استقبالہ دعوت دیگئی۔اس موقعہ پر میری ملاقات پر وفیسر جی ایس بریٹ سے ہوئی تو گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ کے پر دغیر تھے احد چو بیس سال قبل وہاں سے استعفی دیکر ٹورنٹو یو نیورسٹی میں آگئے تھے۔پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے کانفرنس کے اختتام پرمیں نون و پس آگیا اورمشترکہ کیٹی کے اجلاس دو بارہ سامنے شہادت کا اختتام شروع ہو گئے۔نور میں کیٹی کے رو بہ و شہادت پیش ہونے کا مرحلہ ختم ہو گا ی کا کام میں ہندوستانی وند کی شرکت می ختم ہوگئی میں اور اس جانے سے پہلے وزیر سے اور ایک ذاتی مال میں گفتگو کی اجازت چاہی اجازت ملے پر میں نے کہا۔سنا ہے ہندوستانی وند کے چند اراکین کی قدر دانی کے طور پر انہیں معظم کی طرف سے اعزازات دیے جانے کی تجویز ہے اور اس تعلق میں میرا نام بھی نہ یہ غور ہے۔اگر یہ صحیح ہے تو آپ نے ہو نوانہ نشات مجھ پر کی ہیں دن میں ایک اور کا اضافہ فرمائیں اور میرا نام اس فہرست سے خارج کر دیں۔ایک لحظہ خاموش رہنے کے بعد انہوں نے فرمایا کمیٹی کے چیدہ اراکین مثلا چیر من مار کو میں آف سالبری آسٹن عمیر الین، آرچ بشپ آف کنٹربری سب متفقہ طور پر کانفرنس کے سلسلہ میں تمہارے کام کو بڑی قدرکی نگہ سے دیکھتے ہیں اور تمہارے بڑے مداح ہیں کہ تمہارا نام شامل نہ کیا گیا تو انہیں تاسف بھی ہو گا اور حیرت ھی کہ یہ فرد گذاشت کیوں ہوئی۔میں نے کہا آپ ان سے کہ دین کو میری درخواست پر ایس کیا گیا ہے۔مشتر کہ کمیٹی کے پلک اجلاس ختم ہونے پر کمیٹی کے اراکین کے درمیان قرطاس امینی کی تجاویہ پر بحث کامرحلہ شروع ہوگا میں لاہور واپس چلا گیا اور اپنے عدالتی کام میں مصروف ہو گیا۔۱۹۳۴ ء میں سر شادی لال کی طرف سہ کے شروع میں سر شادی لال نے چودھری شہاب الدین صاحب سے ہائی کورٹ کی جی کی پیشکش سے کہا۔آپ چاہتے تھے اللہ ان کو ہائی کورٹ کی جھی کا موقعہ دیا ہے کا اب ایک جگہ خالی ہو نیوالی ہے۔آپ اسے کہیں مجھے مل ہے۔چودھری صامو نے مجھ سے اس بات کا فہ کر کیا تومیں نے کہا آپ