تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 323 of 736

تحدیث نعمت — Page 323

اسم مسلم سلام رام سرین و اس صاحب کے ساتھ ان کے پرانے دوستانہ مراسم تھے۔رائے بہادر صاحب دتی آئے تو مجھے بھی ملنے تشریف مجھے لائے۔وہ پرانی وضع کے با اخلاق بزرگ تھے۔بہت افسردہ نظر آتے تھے میں نے وجہ دریافت کی فرمایا پر پیشہ سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے۔ابھی ابھی سر شادی لال کے ہاں سے آیا ہوں۔بہت ضعف کی حالت میں ہیں۔مجھے پہچان بھی نہ سکے تو اس بھی قائم نہیں۔تم جانتے ہو جب پنجاب کے چیف جسٹس تھے ان کا کسقدر عب ہوتا تھا۔ہر کوئی خوشامد کرتا تھا۔تمام عمر انہیں می فکریہ ہی کہ اپنے لڑکوں کیلئے کافی دولت چھوڑ جاؤں۔اب بھی پیشین آتی ہے لڑکے بھی وصول کرتے اور خرچ کرتے ہیں۔انہیں تو اب اپنا بھی ہوش نہیں برآمدے میں جو کمرہ کھلتا ہے اس میں ایک بوسیدہ چار پائی پر پڑے ہیں۔کوئی ملازم پاس نہیں کہ پیاس لگے تو پانی کی چاہے مجھے رائے بہادر صاحب کے بیان سے لارڈ بلیز برگ کا سوال یاد آگیا کہ بستر مرگ پر سرش دی ڈال کے خیالات کی رد کیا ہو گی ؟ ایک بار میں لارڈ بلیز برگ کے ہمراہ کار میں لندن سے دنیپالیسی جار ہا تھا۔انہوں نے وقت کا اندازہ کر کے جیک اپنے ڈرائیور سے کہا خبروں کے نشر ہونے کا وقت ہے ریڈیو لگا دو۔خبروں میں سنا کہ سہلہ کی فوجیں آسٹریا میں داخل ہو رہی ہیں۔خبریں سننے کے بعد ار ڈبلیز برگ نے فرمایا معلوم نہیں یہ شخص کہاں جا کر رکے گا۔سچ یہ ہے کہ اسے روکنے کیلئے ہمیں ایک Buy درکار ہے۔ہمارا OLLY 8 چہرہ چیل ہے لیکن پھر پھل کو کینٹ میں لانے سے سب اسلئے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ کینٹ میں لیا گیا۔تویس دہی کینٹ ہوگا۔۔! پنڈت نانک چند صاحب تیری گول میز کانفرنس ختم ہونے پرمیں اہور واپس چلاگیا۔نائیکورٹ کے باروم میں ایک دن میرے ایک ہند رفیق نے مجھ سے کہا کل شام ڈی نے دی کا لج میں تیری گول میز کانفرنس کے موضوع پر پنڈت نانک چند کی تقریہ تھی۔تقریر کے دوران میں انہوں نے تمہارا ذکر بڑے تعریفی الفاظ میں کیا اور کہا کہ گول میز کانفرنس کے حلقوں میں اس نے بڑی نیکنامی حاصل کی ہے اور اس کا وجود پنجاب کیلئے بڑے فخر کا باعث ہے۔تھوڑی دیر بعد پنڈت صاحب سے بھی ملاقات ہوگئی فرمایا تم نے سنا کل شام میں نے تمہارے متعلق کیا کہا ہے ہے مں نے کہا ہاں میں نے بھی ابھی سنا ہے اور میں آپ کا ہایت ممنون ہوں لیکن آپ نے میرے لئے ایک مشکل پیدا کردی ہے۔پو چھا کیسی کہ میں نے کہا ا نے میری توی کی اب جو یہ بھی لازم ہواکہ میں بھی آپ کی تعریف کروں۔میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ آپ نے میرے متعلق فرمایادہ سچ سمجھ کر ہی فرمایا لیکن میں سچ کہتے ہوئے آپکی کیا تعریف کروں ؟ بہت ہے۔اس پر میں نے کہا ایک خدمت میں کر سکتا ہوں آپ جس مجلس یا مجمع میں بچا ہیں میں یہ بیان ینے کو تیا ر ہو کہ کانفرنس میں آپ نے میرا اک میں دم کر رکھا تھا کہنے لگے بہت خوب بہت نوب مجھے یہ منظور ہے تم اتنا کہ دو تو سب ہندو یہ سمجھیں گے میں نے کانفرنس میں ان کی بہت خدمت کی ہے اور آئندہ انتخاب میں سب مجھے ووٹ دیں گے ! - سنان مبها در قلی خان صاحب کچھ دنوں بعد اس کے مقابل کے نظریے کی بھی ایک مثال سامنے آگئی۔سید افضل علی صاحب ان دنوں پشاور میں اسسٹنٹ کمشنر انکم ٹیکس تھے۔میں پشاور ان کی ملاقات کیلئے گیا۔عصر کے بعد انہوں نے فرمایا میر ایک