تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 322 of 736

تحدیث نعمت — Page 322

۳۳۲ گرے فرائی یہ کی شام کی صحبتوں میں ہمارے درمیان بعض دفعہ الہیات کا ذکر چھڑ جاتا۔مجھے تو تھوڑا بہت علم اسلامی تعلیم کے متعلق تھامیں بیان کرتا۔میںنے محسوس کیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ حیات آخریت کے متعلق نکی دی چی رو رہی تھی۔ایک بار لا الہ جو کچھ تم کسے ہوا معقول اور قابل قبول ہے کہ محسوس ہوتاہے ان امور پر زیادہ روشنی کیوں میر نہیں۔میں نے کہا روشنی تو میر ہے دروازے کھڑکیاں اور روشندان کھولنے اور انی سے پردے ہٹانے کی ضرورت ہے۔فرمایا ٹھیک کہتے ہو۔ء میں جب جنگ چھڑ گئی تو انہوں نے لندن کے رہنے والے میں بچپن بچوں کے رہنے کے لئے گرے فرائی نہ میں جگہ کر دی تا کہ لندن کے باہر نسبتا محفوظ مقام پہ آجائیں۔یہ بچے لندن سے ایک استانی کی نگرانی میں گئے۔بیڈری ٹیوسٹاک نے مجھےبتایا کہ یہ تو چاہتے تھے کہ ان بچوں کو جو مفلس ترین گھروں سے آئے تھے مہمانوں والے کمروں میں رکھیں۔لیکن میں نے مشورہ دیا کہ اس طرح تو آپ اپنا ساراسامان بر باد کر لیں گے اور بعد میں سارے مکان کی زینت کا نہ سر نو انتظام کرنا ہوگا۔بہتر ہو اگر ان بچوں کو تیسری منزل کے کمروں میں جگہ دی جائے اور آپ کے خادم موسب ساز و سامان کی قدر و قیمت سے واقف ہیں اور اس کی صفائی اور حفاظت کرتے ہیں مہمانوں والے کمروں میں آجائیں سو ایسا ہی کیا گیا۔لارڈ پلیز یہ کس نے سب بچوں کو بوسم کے مطابق نئے صاف ستھرے لباس خوا دیے اور مین کے کرکے فرائی نہ کے پر آسائش ماحول میں خوش و خرم رہنے لگے میں جب نومبر مں ایک کا نفرنس کے سلسلے میں لنڈن گیا تو و پالیسی بھی حاضر ہوا۔چودھری انور احمد صاحب میرے ساتھ تھے۔لارڈ بلنیز یہ گرنے بتایا کہ ہر اتوار کی صبح کو وہ ہر بچے کو ایک نہیں جیب خرچ دیتے ہیں۔دوسری صبح میں نے کچھ نہیں فراہم کردیئے اور جب یہ بچے سیر سے واپس آئے تو میں نے بھی ایک ایک ایک نہیں انہیں دیا۔بچے بہت خوش ہوئے۔ان میں سے ایک نے کہا اس ہفتے میں تو دو اتوار آگئے ای یار یار یاری سر شادی لال کے آخر میں ایام ان پر شادی لال کے ذکر میں کہا۔ظفراللہ مرے ساتھ جب وہ تمہارا ذکر کرتے ہی تو تمہاری تعریف ہی کرتے ہیں۔میں نے کہا اسلئے کردہ جانتے ہیں کہ آپ کا سلوک میرے ساتھ مشفقانہ ہے۔ایک دفعہ مجھے سے دریافت کی کیا سرشاری لال متمولی حیثیت کے ہیں ؟ میں نے کہا یہاں کے معیار سے تو کوئی ایسے متمول نہیں خوشیاں ہیں۔لیکن ہمارے ہاں کے معیار کے مطابق مشمول شمار کئے جاتے ہیں۔پوچھا اپنی دولت کیسے صرف کرتے ہیں ؟ میری مراد یہ ہے کہ کیا اپنے اموال کا کچھ حصہ ایسے کاموں پر بھی صرف کرتے ہیں جس کی غرض عام لوگوں کیلئے خوشی اور دلچسپی کے ذرائع مہیا کرنا ہو ؟ میں نے کہا میں نے تو کبھی ایسا نہیں سنا۔جو کچھ سننے میں آتا ہے وہ یہی ہے کہ اپنے بیٹوں کے لئے بہت کی جائداد چھوڑنا چاہتے ہیں۔فرمایا اگر یہ سچ ہے تو ظفراللہ بستر مرگ پر ان کے خیالات کی رو کیا ہوگی یا سرث دی لائی نے کے اکتوبر میں پریوی کونسل کی حجی سے استعفیٰ دیدیا تھا اور نئی دہلی میں اپنے بنگلے میں رہائش اختیار کر لی تھی ایک سال ہی میں ان کی صحت گرنا شروع ہو گئی۔آخر میں لا چاری کی حالت میں صاحب فراش ہو گئے۔رائے بہاور لالہ