تحدیث نعمت — Page 321
بی انگلستان جاتا اور رد بلیزر برگ و اطلاع ہوتی تومجھے اپنے لندن والے مکان میں لانے پہلی جانے کا پروگرام کو بتا کبھی ان کے ہمراہ ان کی کار میں جاتا کبھی ریل پر سٹنگر جاتا اور وہاں سے ان کی کار میں دن چلی جانا۔مجھے کہ ریکھا تھا کہ جب آؤ میں دوست کو چاہو ساتھ لے آور تم نے دیکھ لی ہے مکان فراخ ہے اور مجھے کوئی وقت نہیں ہوگی بلکہ اطمینان ہوگیا کر تم یہاں اکیلے محسوس نہیں کرو گے۔چنانچہ میرے کئی احباب کو میرے ساتھ کرے فرائر نہ میں مہمان ہونے اور لارڈ ملنیز برگ کی صحبت سے مستفید کونیکا موقعہ ملا ہے۔مسٹرڈوائر رسولیٹر نے ان کے متعلق دو واقعات مجھے سائے تھے جوان کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہیں۔جب دہ پانسری بجے تھے تو ایک تنازعہ ان کے اجلاس میں پیش ہوا جسمیں مدعی کا مطالبہ تھا کہ مدعا علیہ نے معاہدہ شکنی کی ہے۔اور مدعی ہر کھانے کا مستحق ہے۔انہوں نے قرار دیا کہ مدعا علیہ معاہدہ کا پورا کرنا واجد ، تھا اور چونکہ اس کی طرف سے کوتاہی ہوئی اسلئے مدعی ہر جانہ وصول کرنے کا حقدار ہے۔انہوں نے مدعی کے حق میں ہر جانے کی ڈگری صادر کر دی چند دن بعد کسی تقریب میں ان کی ملاقات مدعا علیہ کے وکیل سے ہوئی۔دوران گفتگو اس مقدمے کا ذکر آگیا انہوں نے وکیل سے فرمایا کہ خلال مرحلے پر آپ کے موکل پر واجب تھا کہ وہ معاہدے کی تکمیل کی پیشکش مردمی کوکر تا وکیل نے کہا ہم نے پیشکش کی تھی۔کہا تو پھر آپ نے بحث میں اس طرف توجہ کیوں نہ دلائی اس نے کہا اسلئے کہ بنے تو بیٹی مکھی تھی وہ PRETU DICE WITHOUT تھی اور اسلئے ہم اسے شہادت میں پیش کرنے کے مجاز نہیں تھے۔دوست کے دن انہوں نے مدعا علیہ کے وکیل کو اپنے کمرے میں بلایا اور اسے ایک چیک دیا اور کہا یہ وہ رقم ہے جو آپ کے موکل کو میرے فیصلے کے درد سے فریقی ثانی کو واجب الادا ہے آپ ایسا انتظام کریں کہ آپکے موکل کو شبہ نہ ہو کہ یہ تمیمی نے دی ہے۔بنگال کے ایک پولیس انسپکٹر پر کوئی فو جاری الزام ثابت ہو کر اسے سزا ہوئی اس کی اپیل اور نگرانی کی درخواست دونوں نا منظور ہوئیں اور وہ اپنی ملازمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔اس نے فیصلے کے خلاف پر لوی کونسل میں اپیل کرنے کیلئے خاص اجازت کی درخواست کی اور خود در خور است کی پیروی کیلئے پیش ہوا۔بورڈ کے صدر اور بلیز برگ تھے۔انہوں نے اسے سمجھایا کہ فوجداری معاملات میں پر بیوی کو مسل کے رو بہ و سماعت کی اجازت صرف ایسی استثنائی صورت میں دیجاتی ہے جب عدالت ماتحت نے کوئی الیسا حکم صادر کیا ہو جس کے صادر کرنے کا اسے اختیار ہی نہ ہو۔تمہارے معاملے میں یہ صورت نہیں سائل آنسو بہاتا ہوا کرے سے چلا گیا۔سر جان لاؤنڈ ان دنوں پر لوی کون میں پریکٹس کرتے تھے اور کمرے میں موجود تھے۔لارڈ بلیز برگ نے جلدی میں ان سے کہا سر جانچ جلدی جانا اور اس شخص سے اس کا لندن کا پتہ دریافت کرنا۔پتہ ملنے پر لارڈ بلیز برگ نے سائل کو ایک چیک بھیجا جس کی یہ تم اس کے کلر سے آنے ان کے اخراجات کیلئے کافی تھی۔اس کے علاوہ ایک ذاتی چٹھی وزیر بند کو لکھی کہ اس شخص کے متعلقہ کا غذات منگوا کر اپنے مشیر ان کی معرفت اپنا اطمینان کر لیں کہ اس کے ساتھ بے انصافی تو نہیں یہ تی گئی۔