تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 317 of 736

تحدیث نعمت — Page 317

کوئی وقت پیش نہیں آتی اور بہت عائتی شرح پر قرضہ مل جاتا ہے۔اب آپ لوگ ویسٹ منٹ میں بیٹھے ہندوستان کے آئینی مستقبل پر غور کر رہے ہیں۔ہمیں آپ کے کام کے سیاسی پہلوؤں کانہ علم ہے نہ ان سے سروکار ہے آپ سیاسی لحاظ سے تجد چار میں فیصل کریں۔ہماری سرگرمیاں مالی میدان تک محدومہ ہی بیانی سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں نہ ہم س میں دخل دینا چاہتے ہی اہ کن باتوں کا میں تر ہے ان کی بنا پریم کی قدر وثوق س رائے دہکتے ہیں کہ جوسیاسی فیصلے علی حالت پر اثرانداز ہوں ن کاعلی نتیجہ کیا نکلے گا جیسے میں کہ چکا ہوں ہندوستان کی ساکھ کی لندن کی مالی منڈی میں مضبوطی کی بناور یہ مندر کی ضمانت ہے۔اگر مہندوستان کے مالیات پر وزیہ ہند کا اختیار نہ رہے یا اس حد تک کمزور ہو جائے کہ ہندوستان کے قرضہ جات کی کشت پر وزیر سند کی ضمانت ہ ہو تو ہندوستان کی ساکھ گر جاے گی اور لندن میں ہندوستان کیلئے قرضے کا انتظام کرنا دشوار ہو جائے گا اور موجودہ رہ عالمی شرح پر قرضہ لیا تو ناممکن ہو جائے گا کیٹی کے اراکین میں سے بعض نے گور نر صاحب کے بیان میں رخنہ تاش کرنے یا کوئی امید فرا پلو ڈھونڈ نکالنے کے بہت جتن کئے لیکن بے سود انہوں نے فرمایا صاحبان یہ میری خوشنودی یا مرے رفقاء کی خوشنودی کا سوال نہیں۔مالیات کے اپنے قواعد ہیں اور ان کا اپنا مقیاس الحمارت ہے۔مالی بحران کو کسی کی خوشنودی رفع نہیں کر سکتی۔ریاضی اور طبیعات کی طرح مالیات بھی اپنے قوانین میں ٹکڑے ہوئے ہیں اور قوانین کا عمل نو شوری یار جنید گی سے اثر پذیر نہیں ہوتا بسیاسیات کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔آپ شوق سے ہو فیصلہ چاہیں کریں۔آپ کے فیصلے کا لندن کی مالیت کی منڈی پر کیا ردعمل ہو گا اسکا اندازہ میں نے اور میرے رفقا نے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔کیوں صاحبان ! کیا میں نے ٹھیک کہا۔پانچوں یکبار کی اثبات میں ہے؛ اس دوران میں میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔گورنر صاحب کا بیان با لکل واضح نها کسی غلط نہی کی گنجائش نہیں تھی۔گور تہ صاحب میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم نے کوئی سوال نہیں کیا ؟ میں نے کہا تتباب میں نے آپ کے بیان کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ اگر آئینی اصلاحات کے نتیجے میں ہندوستانی مالیات پر بر طانیہ کے اختیارات کو کسی تخفیف تحریک بھی لندن سے دلی منتقل کیا گیا تو ہندوستان کی ساکھ لندن کی مالیات کی منڈی میں بالکل گر جائے گی۔اور اس صورتہ میں ہندوستان کیلئے لندن کی منڈی میں قرضہ لینا نہایت دشوار بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔کیا میں ٹھیک سمجھا ہوں ؟ فرمایا میں نے ان الفاظ میں تو اپنا مطلب بیان نہیں کیا لیکن کم و بیش میرا مطلب ہی ہے۔" میں نے کہا۔تو جناب اس صورت میں آپ کوئی مزیدیہ سوال کرنا آپ کا وقت ضائع کرنا ہے۔آپ کی وضاحت کے ہم ممنون ہیں۔باقی بحث ویسٹ منسٹر میں ہوگی۔دوسری صبح کیٹی کا اجلاس ہوا۔کمیٹی کے اراکین وزیر بند کے ساتھ بنک آف انگلینڈ کے گوری صاحب کی گفتگو کے متعلق تبادلہ خیالات کرتے رہے۔میں خاموش رہا۔وزیر ہند نے دریافت کیا تم کیا تاثیر سیکر لوٹے ؟ میں نے کہا سناب گوریتیہ صاحب کا کہا ہے کہ اگر مالیات ہند پر برطانوی حکومت کا اختیار خفیف مدتک بھی لندن سے دلی منتقل کیا گیا تو ہندوستان لندن میں اپنا ساکھ کھو بیٹھیے گا۔میری گذارش ہے کہ اگر سیاسی اختیار لندن سے دلی منتقل ہو لیکن مالیات پر اختیار منتقل نہ ہو تو برطانیہ اور مہندوستان کے تعلقات میں الیسا شدید تلاطم پیدا ہو گا کہ اس کے نتیجے میں برطانیہ اپنی ساکھ ہندوستان میں کھو بیٹھے گا