تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 311 of 736

تحدیث نعمت — Page 311

۳۱۱ میں مسلم نشستوں یں کی کر کے بیٹی اور صوبہ متوسط میں مسلمانوں کیلئے زائد نشست منظور نہیں پنجاب کے متعلق تو بالاتفاق فیصلہ ہو گیا۔بنگال کے متعلق سرلی ایل نرز نے پھر اپنا سابقہ اعتراض دہرایا کہ ہندوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے کم نیابت دی گی ہے جس کا میں نے تفصیلی جواب دیا۔آخر فیصلہ ہوا کہ ہلے تو سفارش کی گی تھی وہ سریال ترکی ندوی کی نیابت کی کمی کی شکایت کے ساتھ دوہرائی جائے۔آخر کار حکومت برطانیہ نے اس کے مطابق فرقہ وارانہ سیاست کے متعلق اپنا فیصلہ صاویر کر دیا۔سرمان اینڈرس تھوڑا عرصہ پہلے بنگال کے گور زمقر ہوئے تھے۔انہوں نے کلکتہ سے وائیٹے کی خدمت میں لکھا کہ میں تو میاں گورنمنٹ ہاؤس میں گویا محسوس بیٹھا ہوں۔کوئی ہندو لیڈر مجھ سے ملتا ہے نہ مسلمان مسلمانوں کو تواب شکوہ نہیں ہونا چاہئے۔فرقہ وارانہ نیابت کے فیصلے میں بنگال میں ان کی نیابت ۲۰ فیصد سے بڑھا کرہ اہم فیصد کر دی گئی ہے گو ابھی اس کا اعلان نہیں ہوا۔لیکن اگر میرے ساتھ دہ رابطہ قائم کریں توی بغفر تفصیل مں جانے کے ان کا اطمینان کر سکونی۔اگر ظفراللہ خاں دو تین دن کیلئے کلکتے آجائے تو ممکن ہے اس جمود کی حالت میں حرکت پیدا ہو سکے۔وائسرائے نے میرے ساتھ ذکر کیا اور کہا اگر تم اسکو تو گورنر کے پاس ٹھہر جانا اور سلمان اہل الرائے اصحا سے ملنا میں نے کہا میں چلا جاتا ہوں لیکن میراگورنہ اوٹس میں ٹھہر نامناسب نہیں۔اگر میں گورنر ا مہمان ہوا تو جو اصحاب مجھ سے ملنا چاہیں گے وہ آسانی سے آجا نہیں سکیں گے۔میں سرعبدالحلیم غزنوی صاحب کے ہاں ٹھہر جاؤں گا اور وہیں سب اصحاب سے ملاقات کرد گا۔غزنوی صاحب کے ہاں مجھے بہت آرام ملا۔اس کے بعد جب بھی مجھے تقسیم سے قبل کلکتے جانے کا موقعہ ہوتا میں انہی کے ہاں ٹھہرتا اور وہ حد درجے کی تواضع سے پیش آتے رہے۔فجزاہ اللہ خیرا۔اس موقع پرمیں جنگل کی مسلم قیادت کے والا مولوی ابوالقاسم فضل الحق صاحب کوئی پہلے سے جانا اہ مہربانی فرماکر پانچ چھایا ہے ہمراہ میری قیام گاہ پر تشریف لائے۔بظاہر بے تکلفی سے گفتگو ہوتی رہی اور بعد اطمینان تشریف لیگئے تھوڑی دیر بعد انہیں اصحاب میں سے تین چار کے ہمراہ پر تشریف لائے اور کچھ مزیدار کےمتعلق گفتگو فرمائی۔آخر ایک روز تنہا تشریف ائے اور فرمایا میرے تمہارے درمیان کوئی تکلف تو ہے نہیں، ہند ہم پر زور دے رہے کہ ہم ان کے ساتھ سمجھوتہ کریں تم مجھے صاف صاف بلاد که اگر فرد داران نیات کی صورت می ہماری پوزیشن کمزور ہے تو ہم ہندوں کے ساتھ سمجھو نہ کی صورت کرلیں میں نے دریافت کیا آپ کے اندازہ کے مطابق مضبوط پوزیشن کیا ہوسکتی ہے ؟ کیا اس وقت بھی عام نشستوں کا ہے فیصد حاصل ہے جو کل نشستوں کا ۲۰ فیصد نتا ہے اگر میں کاوشوں کا ہم فیصد ی نے کی امید و تو تم بھی مہاری پوزیشن مضبوط ہے۔ہندو شاید کہیں ہم نصیری مخلوط انتخاب کے اصول پر دینے پر رضامند ہو جائیں۔گواھی وہ انے پر خاند نظر نہیں آتے۔میں نے عرض کیا میرا اندازہ ہے کہ آپ ہم فیصدی سے زیادہ کی پختہ امید رکھ سکتے ہیں پوچھا کیا غلط انتخاب سے ؟ میں نے کہا نہیں جداگانہ انتخاب۔فرمایا توپھر میں ندوی کی خوشامد کی کیا ضرورت ہے ہم نے