تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 295 of 736

تحدیث نعمت — Page 295

۲۹۵ مکان کی چھت پر گئے اور وہیں سے ساتھ والے مکان کی طرف دیکھا کہ بیت اڑ گئی ہوئی ہے اور شہتیر یاں تنگی ہوگئی میں یہ حالت دیکھکر میں نے کہا کیا خوبصورت مکان تھا اور اب کیا حالت ہو گئی ہے۔کل شام جب تمہیں تکلیف شروع ہوئی اور تیز بخار ہوگیا تو مجھے گھبراہٹ ہوئی کہ کہیں یہ میرے خواب کا دوسرا حصہ نہ ہو۔الحمدللہ کہ اللہ تعالی نے ہم بے کسوں پر رحم فرمایا۔اور تمہاری تکلیف رفع ہو گئی۔سمجھ چودھری شمشاد علی خالصاحب کی وفات | چودھری شما علی خاں مامون نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم ایس سی کی سند حاصل کی اپنی دونوں سرما شکل اور وائر لفٹنٹ گورنر پنجاب کی تحریک پر صوبہ پنجاب کی طرف سے سگنلنہ کی ایک ڈیل کمپنی بھرتی ہوئی۔چودھری شمشاد علی خالصاحب اپنی خاندانی روایات کو قائم رکھتے ہوئے اس میں بھرتی ہو گئے۔ڈبل کمپنی عراق میں سنگی فوجی خدمت کرتی رہی جنگ کے ختم ہونے پر سے بھی ختم کر دیا گیا۔چونکہ جنگ کے دوران میں انڈین سول سروس کے مقابلے کا امتحان التوا میں رہا تھا لہذا اس کمی کو پورا کرنے کیلئے ایک افسر صوبہ پنجاب سے نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔چودھری شمشاد علی خالصامت نے بھی درخواست دی انتخابی بورڈ نے اپنی فہرست میں ان کا نام اول نمبر پر رکھا لیکن ان کے انتخا کے رستے میں ایک رکاوٹ یہ تھی کہ جتنی عمر اس انتخاب کے لئے مقررکی گئی تھی چو دھری صاحب کی عمر اس سے زیادہ تھی۔انہوں نے آئی سی ایس کے فوائد کی بناء پر استدعا کی کہ مقتنا عرصہ انہوں نے ڈبل کمپنی میں جنگی فوجی ندارمت میں صرف کیا وہ انہیں مجری دیا جائے۔بورڈ نے قرار دیا کہ نامزدگی کیلئے جو قواعد وضع کئے گئے ہیں ان کی رو سے یہ عرصہ میری نہیں دیا جا سکتا لیکن بورڈ نے وزیر بند کی خدمت میں حجرہ پورٹ بھیجی اس میں سفارش کی کہ وزیر شہید اپنے اختیارات سے یہ عرصہ اگر میری دیدیں تو سود هری شمشاد علی خالصاحب کو نامزد کیا جائے۔اور اگر عمر کا معاملہ ان کے رستے میں روک ہو تو حمید اصغر صاحب ( فرزند شیخ اصغر علی صاحب ) کو نامزد کیا جائے۔وزیرہ مہر نے فیصلہ کیا کہ نامزدگی کے قواعد میں ترمیم کرنا ان کے اختیار میں نہیں لیکن جو امتحان یورپین اور ہندوستانی فوجی خدمت کرنے والوں میں سے انڈین سول سروس کے افرانتخاب کرن کے لئے ہندوستان میں لیا جانا قرار پایا ہے۔اس میں شامل ہونے کی چودھری صاحب کو اجازت دیجاتی ہے۔پچودھری صاحب اس امتحان میں شامل ہوئے اس کے نتیجے میں اٹھارہ امید وار آخری انتخاب کے لئے لندن بلائے جانے والے تھے۔جن میں سے کچھ کا انتخاب ہونا تھا۔چودھری شمشاد علی خانصاحب اٹھاروی نمبر پر آئے اور آخری انتخاب کیلئے لندن بلائے گئے۔انتخاب میں فضل اللہ کامیاب ہوئے۔انہیں طبعاً خواہش تھی کہ ان کی تعیناتی پنجاب میں ہولیکن تعیناتی بہار میں ہوئی وطن واپسی پر جب تمام کیفیت مجھ سے بیان کی تو کہ یہ اطلاع ملتے یہ کہ مری قیاتی بہارمیں ہوئی ہے مجھے بالکل یہی محسوس ہواسے کسی نے میرانے میں گئی ارادہ ہے اورمیں بالکل ہے اور جو کہ رونے لگ گیا یہ کیفیت دو تین گھنٹے تک جاری رہی اور پھر جاکر میری طبیعت سنبھلی۔بہار میں انہیں اپنے کام میں خوب دیسی ہوگئی اکثر تعجب کا اظہار کیا کرتے تھے کہ بہار میں تعیناتی کی اطلاع ملنے پر ان کی طبیعت میں اس قدر رنج کیوں پیدا