تحدیث نعمت — Page 294
۲۹۴ نواب صاحب ممدوٹ کی وراثت کے مقدمہ کی پیروی اسند سال قبل نواب غلام قطب الدین خانصاحب تین ممدوٹ کی وفات پران کے چازاد بھائی شاہ نواز خالصامت نے جو ریاست حیدر آباد میں سرنڈنٹ پولیس تھے۔نواب صاحب کے وارث کی حیثیت سے ریاست ممدوٹ اور متعلقہ جائداد کا دعوی حکومت ہند کے سیاسی محکمے میں کیا تھا۔اور اس کی پرچی کیلئے مجھے وکسل مقرر کیا تھا۔حکومت ہند نے نوابی کے خطاب اور سیاسی جگر کا فیصلہ حتی نواب شاہ نواز تعال صاحب کیا لیکن ذاتی جائداد کے متعلق تداری کی اراضیات کے داخل خارج کا فیصد فناشل کمشنر صاحب خود کریں۔فنانشل کمشنر صاحب نے داخل خارج کے متعلق بحث کی سماعت کیلئے ، ار جنوری تاریخ مقر کی۔۱۲؍ جنوری کو نواب صاحب میر مکان پر تشریف لائے اور فرمایا فریق مخالف نے سید سن امام صاحب کو وکیل مقر کیا ہے اور وہ سینہ سے لاہور تشریف لے آئے ہیں۔میری حالت کو دیکھتے ہوئے نواب صاحب کی ائے ہوئی کہ ہمیں میت کے التوا کی درخواست کرنی چاہیئے میں ابھی تک اس قابل نہیں تھا کہ زیادہ دیر کھڑا رہ سکوں اور یہ آسانی سے تقریر کر سکتا تھا۔تاہم میں نے نواب صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ ہماری طرف سے التوا کی درخواست مناسب نہ ہوگی۔خصوصاً جب فریق مخالف کے لائق اور قابل اعزام کیل پٹنہ سے لاہور آنے کی زحمت اٹھا چکے ہیں۔نواب صاب نے پو چھا کہ اسحال میں تم عمل میں کیسے اسکو گے ؟ از نفت میں کیسے حصہ لے سکو گے ؟ میں نے عرض کیا اللہ تعالی اپنے فضل سے تو فیق عطا فرمائے گا آپ پریشان نہ ہوں۔نواب صاب کے تشریف لے جانے کے بعد چار بجے سہ پہر کے قریب سید مراتب علی صاحب اور سید محمد علی صاحب تشریف لائے اور میں مکان کے چمن میں ان کی خدمت میں حاضر مہر گیا۔سورج چمک رہا تھا اور موسم اعتدال پر تھا۔ہم نے وہیں ناشتہ کیا محترم سید صاحبان کے رخصت ہونے پر ہمیں کمرے میں واپس آیا تو مجھے اعضاء شکتی اور لرزہ محسوس ہونے لگا اور ملیریا کے حملے کے آثار نمودار ہوئے۔کمرے میں آگ جلائی گئی میں نے ۳۰ گرین کو مین کھائی مجو ایسی حالت میں تحریر سے میرے لئے ہمیشہ مفید ثابت ہوتی رہی تھی۔والدہ صاحبہ میرے کمرے میں تشریف لائیں اور میری حالت دیکھ کر بہت پریشان ہوئیں۔میں نے انہیں اطمینان دلانے کی کوشش کیکو گود درجہ حریت علدی بڑھ گیا ہے لیکن میری طبیعت میں قرار ہے اور میں اندازہ کرتا ہوں کہ نیم شب تک درجہ حرارت اعتدال پر آجائے گا۔ان کی بے چینی میں اس سے کوئی کمی نہ ہوئی اور وہ بہت اضطراب کی حالت میں دعا کرتی رہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل و رحیم سے نصف شب تک میرا اخبار اترگیا والدہ صاحبہ کی طبیعت میں بھی سکون آگیا اور میں آرام کی نیز سو گیا صبح کے وقت والدہ صاحبہ میرے کمرے میں تشریف ائیں اور یہ دیکھ کہ کہ میں فضل اللہ اچھی حالت میں ہوں انہیں اطمینان ہوا۔فرمایا کل شام ہو میں استقدر مضطرب تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ جو خواب میں نے تمہیں جالندھر میں سنایا تھا اس کا ایک حصہ میں تھے اس وقت بیان نہیں کیا تھا۔اور خواب کا وہ حصہ میری پریشانی کا باعث ہو رہا تھا۔خواب میں بجلی گرنے کے بعد جب مطلع صاف ہوا اور لوگوں نے کہا تیر رہی غیر رہی تو ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ تھے والے مکان پر بجلی گری ہے اور اس کی چھت اٹھ گئی ہے۔یہ سن کر ہم لوگ اپنے 1