تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 293 of 736

تحدیث نعمت — Page 293

۲۹۳ تھا میں ان کا مہمان ہوتا تھا اور ان کے ہاں ہر طرح کا آرام پاتا تھا۔میں ان کی تہیم نواز نشوں کا کسی صورت میں کوئی بات ان کی خدمت میں پیش نہ کر سکا۔اللہ تعالیٰ انہیں دونوں جہانوں میں بہترین بدلہ عطافرمائے۔آمین۔لاہور میں اس خاتو " کی اطلاع ہوتے ہی چود کر شہاب الدین صاحب تشریف لے آئے۔کرے میں داخل ہوتے ہی سوال کیا ظفر اللہ خال رباع کو تو چوٹ نہیں آئی ؟ میں نے عرض کیا اللہ تعالٰی نے رحم فرمایا ہے دماغ کا کوئی صدمہ نہیں پہنچا اور جہان تک اندازہ ہوتا ہے بائیں آنکھ بھی مدرسے سے محفوظ رہی ہے۔تھوڑی دیر بعد سید العام اللہ شاہ صاحب اور والدہ صاحبہ بھی تشریف طنت لے آئے۔والدہ صاحبہ میری حالت دیکھ کہ متواتہ اللہ تعالی کی حمد کرتی ہیں کہ اس نے اس خطرناک حادثے میں ایسی تلفات فرمانی سید انعام اللہ شاہ صاحب کی طبیعت بہت نفاست پسند تھی۔ہسپتال کے کمرے کی حالت کے متعلق نا پسندگی کا اظہار کیا۔میں نے مذاق میں ٹال دیا۔بہت متعجب ہوئے کہنے لگے ظفر اللہ خان تم عجب جسم کے آدمی ہو ہی تو را سر درد کی بھی تکلیف ہو تیم استقدر چیختے چلاتے ہیں کہ ایسے محل کو ہزار کرتے ہیں۔ہم تو اسے ان تک سمجھتے ہیں کرتا تکلیف میں ہوں اور محلہ ھر میںکوئی شخص آرام کی میں سے دادیم تو کہ یہ تمام پیوں میں لیٹا ہوا ہے۔ہون کیا گیا ہے غم کے ٹانکوں کی وجہ سے اور دانت نکل جانے سے بات کرنے کے قابل نہیں اور اس حالت میں بھی مذاق کرتے ہو۔خود تو ہنس نہیں سکتے لیکن دوسرو کو نہاتے ہو۔میں نے کہا میر صاحب اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایسی بلا کا سامنا ہوا اور اس نے محض اپنے رحم اور ذرہ نوازی سے جان بخشی فرمائی اور کاری ضرب سے محفوظ رکھا۔سننے اور شکر کرنے کا ہی مقام ہے رونے اور واویلا کرنے کی تو کوئی وجہ نہیں۔والدہ صاحبہ کو جب میری حالت کے متعلق اطمینان ہو گیا تو فرما یا کل میری افسردگی کا سبب یہ تھا کہ میں نے اس سے پہلی رات نخواب دیکھا کہ سیاہ بادل اٹھا ہے اور آسمان پر چھا گیا ہے اس اندھیرے میں بجلی گرمی اور دہشتناک کڑک کی آوانہ آئی ساتھ ہی بادل چھٹ گیا اور روشنی ہوگی لوگوں نے کہا تیر رہی، غیر ر ہی میں تمہارے کمرے کے دروازے کے پاس ایک سیا لکیر بجلی گرنے کے نشان کے طور پر باقی رہ گئی۔میں اس خواب سے ہراساں تھی اور سارا وقت دست بدعا ہی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحم سے تمہیں محفوظ رکھے۔اللہ تعالیٰ کا بہت بہت شکر ہے کہ اس نے خطرہ ملا دیا۔دو دن بعد میں سفر کے قابل ہوگیا اور ہم لاہور چلے گئے جہاں میو ہسپتال کے سپیشیل وارڈ میں کمرہ لے لیاگیا۔نفسٹ کر نیل بروم بڑی توجہ اور شفقت سے میری خبر گیری کرتے رہے۔پہلے دن ہی زخموں کے معائنے کے بعد انہوں نے فرمایا ڈاکٹر لو سونے بہت توجہ اور اختیا سے زخموں کو سیا ہے اور ہرممکن ضرورت کا لحاظ رکھا ہے۔فکر کی ضرورت نہیں۔چند دن کے بعد میں ہسپتال سے اپنے مکان ماڈل ٹاؤن چلا گیا۔میں ابھی کام کاج کے قابل نہیں تھا۔چہرے کے زخم اچھے ہو رہے تھے منہ کے اندر کا حصہ بھی ناز حالت میں تھا۔دانت اور بھیڑوں پر زور دینے سے درد محسوس ہوتا تھا۔سیالی خوراک پر گزارہ تھا۔