تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 273 of 736

تحدیث نعمت — Page 273

۳۷۳ تسلیم کر لیا تو کیا دور ہے سوال پر بھی بحث کی نوبت آئے گی کہ فریقین رواج کے پابند ہیں یا شرع محمدی کے سینیئر وکیل اور سود بسٹر دونوں کی رائے تھی کہ یہ نوبت نہیں آئے گی۔ہائی کورٹ نے اس سوال کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔اس لئے اگر پر لوری کونسل نے مدعیان کو مستوفی کا یکجدی قرار دیا تو انہ کا معاملہ ہائی کورٹ میں واپس جائے گا کہ وہ اس قانونی سوال کے متعلق فیصلہ کریں۔پہلوی کونسل کے اجلاس ڈاوننگ اسٹریٹ میں واقع ایک عمارت میں ہوتے تھے جس کے متعلق باہر سے دیکھنے والا ہرگز یہ اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ اس عمارت کے اندر مملکت برطانیہ کے بیرونی علاقوں کی سے بڑی عدالت بحث سماعت کرتی اور فیصلے صادر کرتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ پہلوی کونسل کی جوڈیشیل کمیٹی کے اجلاسوں میں بڑے عالی مرتبت جج شامل ہوتے اور وہ ایک عدالت کی حیثیت سے وکلاء کی بحث سماعت کر کے فیصل مصادر کرتے۔لیکن جوڈیشل کمیٹی جیسے اس کے نام سے ظاہر ہے پر یوی کونسل کی ایک کمیٹی تھی جو لفظا فیصلہ صادر نہیں کرتی تھی بلکہ فرمانروا کی خدمت میں مشورہ پیش کرتی تھی جو فیصلہ نہیں کہلاتا بلکہ رپورٹ کہلاتا ہے۔یہ رپورٹ پر یلوی کونسل کے ایک با قاعدہ رسمی اجلاس میں پیش ہوتی میں فرمان د نبات خود موجود ہوتا اوروہاں سے آریان پول جاری ہوتا جس میں ہائی کورٹ متعلقہ کو ہدایت دیجاتی کہ جوڈیشیل کیٹی کی رپورٹ کے مطابق عمل کیا جائے۔چونکہ تو دیل کمیٹی فرمانروا کی کونسل کی ایک کمیٹی منفی اسلئے سورج اسکی عدالت میں شریک ہوتے وہ اجلاس میں اپنے روزمرہ کے عام لباس میں میٹھتے۔ان کے اور وکلا کے درمیان صرف ایک چوڑی میز ہوتی۔وکلاء اپنا مخصوص لباس اور روگ گون وغیرہ پہنے ہوتے۔جوڈیشل کمیٹی کی رپورٹ چونکہ مشورہ ہوتی اسلئے اس سے یہ ظاہر نہیں ہو تا کہ اجلاس میں جو بیج شامل تھے وہ متفق الرائے تھے یا ان کے درمیان اختلاف رائے تھا۔مشورے میں اختلاف رائے کی گنجائش نہیں پس پردہ اگر کوئی اختلاف ہو بھی تو وہ رپورٹ میں ظاہر نہیں ہوتا۔جوڈیشنل کمیٹی ایک ہی وقت میں دریا تین الگ الگ اجلاسوں میں بھی مقدمات کی سماعت کرتی۔یہ اعلاس بورڈ کہتے۔جس بورڈ نے اس اپیل کی سماعت کی اس میں لارڈ بلین برگ، لارڈ میکیان ، سرجازت لاؤنڈرز اور سروانیان سانڈریسن شامل تھے۔سرجانت لاؤنڈ بھی ہائی کورٹ میں پریکٹس کر چکے تھے اور پولی کونسل میں بھی پریکٹس کرتے رہے تھے سرانسپلاٹ سانڈرسن کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسں رہ چکے تھے۔بحث شروع ہوئی سینئر وکیل نے واقعات مختصراً بیان کرنے کے بعد شجرہ نسب کی طرف توجہ دلائی، اور شہادت پڑھ کر سنانا شروع کی۔جوں نے طبع شدہ شجرہ نسب سامنے رکھا ہوا تھا۔نہ بانی شہادت اور شجرہ نس کے اندراجات یں تطابقت نہ پاکر کہنا شروع کیا کہ نہ بانی شہادت سے تو شجرہ نسب کی تائید نہیں ہوتی۔سنیٹر وکیل کچھ وضاحت کی کوشش کرتے لیکن جوں کا اطمینان نہ ہوتا۔میں سمجھ رہا تھا کہ جوں کو کیا مشکل پیش آرہی ہے اور اس کا کیا حل ہے بسیر وکیل پریشان ہو رہے تھے اگر میں انہیں کچھ لکھ کہ دینا بھی تو پریشانی میں وہ میرا مطا نے سمجھ پاتے اور جو شکل جج صاحبان کو حیران کر رہی تھی اس کا حل ان کے نہیں کی