تحدیث نعمت — Page 272
I دارند و توان مالک اراضی کا انتقال ہوگیا متوفی کی ہمشی گن اس کی سند کہ اراضی پر راضی ہوگئیں متونی کے بعبیدی یک جدیان نے اس کی وراثت کا دعوی اس بنا پہ کیا کہ متوفی کا خاندان امور وراثت میں رواج کا پابند ہے اور روح کی رو سے یک جریان کا مق وراثت بمقابلہ ہمشیرگان فائق ہے۔ہمشیرگان کی طرف سے عزیہ کیا گیا کہ مدعیان متوفی کے یک جدی نہیں اور اگر یک جدی ثابت بھی ہوں تو متوفی کا خاندان رواج کا نہیں بلکہ شرح محمدی کا پابند ہے۔جسکی رو سے ہمشیرگان کا حق بمقابلہ یک جریان فائق ہے۔عدالت ابتدائی امیر عباد اللہ صاحب غیر سب چھ گوجرانوالہ نے قرار دیا کہ مدعیان متوفی کے نویں پشت کے یک جریان ہیں اور متوفی کا خاندان رواج کا پابند ہے اسلئے مدعیان کا ستی وراثت بمقابلہ ہمشیرگان فائق ہے۔اور مدعیان کے حق میں ڈگری دیدی۔مدعا علیہم نے ہائی کورٹ میں اپیل دائمہ کی اپیل کی سماعت مسٹر جسٹس مار مینو اور سٹر جسٹس ظفر علی نے کیا۔مدعیان کی طرف سے ڈاکٹر خلیقہ شجاع الدین صاحب وکیل تھے اور میں ان کے ساتھ جو نیٹر تھا۔مدعیان نے متوفی کے ساتھ اپنا رشتہ ثابت کرنے کے لئے ایک خاندانی شجرہ نسب پیش کیا تھا جو ان کے خاندان کی ایک قلمی تاریخ مرتب شاہ نوانہ الدین کے ساتھ شامل تھا اور جس سے ان کا متوفی کا ایجدی ہونا ظاہر ہوتا تھا۔کچھ نہ بانی شہادت بھی پیش کی گئی تھی جس میں خاندانی میرانی کی شہادت بھی شامل متی جان ہائی کورٹ نے شجرہ نسب تو اس بناء پر رد کر دیا کہ اس میں بعض اندرا جات کی تحیہ یہ اس تغیریہ سے مختلف ہے ہ شاہ نوانہ الدین کی بیان کی جاتی ہے۔اور بعض اندراجات پیدائش و اموات ایسے لوگوں کے ہیں جو شاہ نواز الدین کی موت کے بعد پیدا ہوئے یا فوت ہوئے اور تین کی پیدائش یا وفات کا علم شاہ نواز الدین کو نہیں ہوسکتا تھا۔زبانی شدند اس بنا پر رد کردی کہ نویں پشت تک کی رشتہ داری کاعلم صرف سماع ہوسکتا ہے جو قابل پذیرائی ہیں۔اس تجویز کے مطابق قرار دیا گیا کہ مدعیان کا رشتہ متوفی کے ساتھ ثابت نہیں۔اور مشیرگان متوفی کے خلاف جوار منی متفانہ عہ پر۔۔قابض ہیں مدعیان کا دعویٰ نہیں چل سکتا مد عاعلیہم کی اپیل منظور ہو کر دعوی و عیان خارج ہوا۔مدعیان نے پریوی کونسل میں اپیل بھجوانے کے لئے مجھے وکیل کیا۔مقدمہ کی مالیت کے لحاظ سے مدعیان استحقاقا پر وی توں میں اپیل دائر کر سکتے تھے۔چنانچہ ہائی کورٹ سے سرٹیفکیٹ مل گیا اور میں نے لندن کے ڈگلس گریٹ اینڈ ویڈ سولسروں کو اپیل کے کاغذات بھجوادیے۔جب میں پہلی گول میز کانفرنس کے سلسلے میں لندن ٹھہرا ہوا تھا تو ایک روزہ مسٹر ڈولڈ نے ٹیلیفون پر مجھے کہا کہ اس اسپیل کی سماعت آئندہ ہفتے میں ہونے والی ہے۔اگر تم وقت نکال سکوتومیں تمہارا نام بطور تو نیٹ وزن کردیتا ہوں۔اس حیثیت میں تمہیں پر لوری کوسن میں حاضری کا موقع مل جائیگا جو تمہارے لئے دلچسپی کا موجب ہوگا۔دوسرے ہفتے کے شروع میں انہوں نے مجھے بتایا کہ اہل کی ساعت کل ہوگی۔مناسب ہو گا گیہ تم اجلاس شروع ہونے سے نصف گھنٹہ پہلے پہنچ جاؤ تاکہ نیر وکیل تمہارے ساتھ مشورہ کر سکے اور ہماری رائے ہے فائدہ اٹھا سکے مشورے کے دوران میں اس بات پر بھی غور ہوا کہ اگر پر بیوی کونسل نے ہمارے پیش کردہ شجرہ نسب کو