تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 252 of 736

تحدیث نعمت — Page 252

کچھ کہا ہی نہیں۔ایک کے لئے صرف سزا میں تخفیف کی استدعا کی اور ایک کی سمریت چاہی۔تمہیں تو تینوں کی طرف سے وکیل کیا گیا تھا۔تمہیں چاہیئے تھا کہ مینوں کی رہائی کی کوشش کرتے۔میں نے کہا مجھے تینوں کی سٹائی کا کوئی اسکان نظر نہیں آتا تھا۔اگر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا کہ تینوں بے گناہ ہیں۔بالفاظ دیگہ استغاثے کا بیان کردہ وقوعہ ہوا ہی نہیں۔یا اگر ہوا ہے تو فرشتوں کے ہاتھوں ہوا ہے انسانوں کے ہاتھوں نہیں ہوا۔یا اگرانسانوں کے ہاتھوں ہوا ہے تو ان میں ان تین ملزمان میں سے کوئی بھی شامل نہیں تھا تو یہ ایسی غیر معقول بات ہوتی کہ اپیل کلیہ خارج ہوئی۔اور تینوں ملزمان کی سند سجالی رہتی۔بیشک مجھے تینوں کی طرف سے وکیل کیا گیا تھا اور میرا فرض تھا کہ میں ملزمان کے زیادہ سے زیادہ فائدے کی کوشش کرتا میل کے مطالعہ کے بعد اور پورے غور و فکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ یہی طریق سب سے زیادہ فائدے کا ہے۔اور فیصلے نے ثابت کردیا کہ میرا اندازہ صحیح تھا۔مسٹریٹس سیرین اغوا اور کچھ قسم کے الزامات کے متعلق بہت احتیاط برتے تھے۔ایک مقدمے میں ایک زمیندارہ خاندان کے دو نو جوانوں پر نہنا بالجبر کا الزام تھا۔دونوں کو پانچ پانچ سال قید بامشقت کی سندا ہوئی۔مجھے ان کی طرف سے اپیل میں وکیل کیا گیا۔سماعت کی تاریخ پر چین صاحب نے مجھے وکیل کیا تھا تشریف لائے۔میں نے ان کی خدمت میں گزارش کی کہ مسل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ملزمان کی طرف سے یہ کہا جاتا کہ ہماری اس عورت کے ساتھ آشنائی تھی اور اس تعلق کی بنا پر ہم اس کے ہاں گئے تھے تو عین مکن ہے کہ مجسٹریٹ صاحب اس بات کو تسلیم کر لیتے اور اگر وہ نہ کرتے تو اپیل میں یہ بات تسلیم کر لی جاتی۔ان صحاب نے کہا وکیل صاحب تو میں کہنا چاہتے تھے لیکن میرا بیٹ اور بھتیجہ کی کردار نوجوان ہیں وہ کیسے اب گندہ الزام خود اپنے ذمے عائد کرتے۔یہ تمام تصفیہ تو عداوت کی بنا نچہ کھڑا یا گیا ہے۔یہ صاحب خود نیک سیرت معلوم ہوتے تھے۔مجھے ان کی یہ بات پسند آئی اور مجھے یہ یقین ہوگیا کہ اگر ملزم بیگناہ ہیں تو ضرور بفضل اللہ بری ہوں گے میں نے ان سے کہا آپ جاکر دعاء میں لگ جائیں اور اللہ تعالی سے رحم کے خواستنگانہ ہوں اور دعاء مں لگے رہیں جب تک چودھری فضل داد صاحب آگر آپ کو فیصلہ کے متعلق اطلاع دیں۔اپیل کی سماعت مسٹر جیٹس سیرین کے اجلاس میں تھی۔استغاثے کی کہانی مختصر طور پر بیان کرنے کے بعد میں نے کہا میں صرف تین امور کی کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اول عورت کا بیان ہے کہ اس نے دونوں ملزمان کو شناخت کر لیا تھا کیونکہ اس کی چار پائی کے پاس لائین رکھی ہوئی تھی۔یہ نہایت غیر اغلب بات ہے۔اگر یا سٹین ہوتی بھی تو ملزمان پہلی بات یہ کرتے کہ لالٹین کو وہاں سے ہٹا دیتے یا اسے گل کر دیتے۔دوئم عورت کے خاوند کا بیان ہے کہ وہ اس رات ٹھیکری پرے پر تھا۔اس نے اپنی بیوی کی چیخ پکار سنی اور فورا بھاگ کر گھر آیا۔راستے میں