تحدیث نعمت — Page 9
حالت میں کہا اور میرے کمرے میں آو۔میں جلدی میں اٹھ کران کے پیچھے ہولیا۔اپنے کمرے میں پہنچ کر انہوں f ” نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود فوت ہو گئے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون باقی احمدی دوست بھی ان کے کمرے میں جمع ہو گئے تھے۔یہ دل ہلا دینے والی خبرای غیر متوقع تھی کہ دل مان ہی نہ تھا کہ یہ صحیح ہوسکتی ہے۔لیکن تسک کی گنجاش بھی نظر نہ آتی تھی۔جب ہوش ٹھکانے آئے تو ہم سب جلدی میں ہراساں اور پریشاں احمدیہ بلڈ گلس پہنچے۔وہاں مکان کے اندر تو وہی سماں تھا جس کی توقع کی جا سکتی تھی اور جس کا اندازہ ہر مخلص اور دردمند دل کر سکتا ہے۔لیکن مکان سے باہر سٹرک پر مخالفین سلسلہ جس قسم کے مظاہروں سے اپنے اخلاقی فقدان کا اعلان کر رہے تھے۔وہ نہایت اندر سناک اور قابل افسوس تھا۔نماز جنازہ کے بعد ہم میں سے اکثر قادیان جانے کیلئے یوسے اسٹیشن پر پہنچے اور ہوگاڑی عصر کے وقت لاہور سے بٹالہ جاتی تھی اور جس کے ساتھ ایک خاص ڈبے میں حضور یہ اسلام کی نعش مبارک کریلے جانے کا انتظام کیا گیا تھا۔اس میں سوار ہو گئے۔دوسرے بزرگوں کے متعلق تو مجھے پوری طرح یاد نہیں، لیکن حضرت مولوی نور الدین صاحب کے متعلق یاد پڑتا ہے کہ آپ تیسرے درجے کے ڈبے میں ہمارے ساتھ ہی سفر کر رہے تھے۔گفتگو کا تو کوئی موقع نہیں تھا سب لوگ دعا اور درود شریف کے درد میں مصروف تھے۔حضرت مولوی صاحب نے سارا وقت سر جھکائے مراقبے کی حالت میں نظر آتے تھے۔امرتسر پہنچنے تک مغرب کا وقت ہو گیا تھا۔پلیٹ فارم کے اس حصے میں جہاں اور پر چھت نہیں تھی اور سینیٹ فارم بھی کچھ کھلا تھا حضرت مولوی صاحب نے نماز پڑھائی۔امرتسر کی جماعت کے لوگ بھی شامل ہو گئے تھے۔کچھ رات گئے گاڑی بٹالہ سنچی۔یہاں جہاں کہیں کسی سے ہو سکا ایک دو گھنٹے سستا لیا۔آدھی رات کے کچھ بعد یہ محزون قافلہ پا پیادہ قادیان روانہ ہوگیا۔چونکہ گرمی کا موسم تھا اور ہجوم کی کثرت سے گرد اڑتی تھی اسلئے رفتار بہت دھیمی تھی تا کہ احباب کو تکلیف نہ ہو۔اور نعش مبارک کو کندھا دینے والے آرام اور سہولت سے مفر طے کر سکیں۔قادیان کی سڑک پر احباب ٹولیوں میں بکھر گئے تھے اور قافلہ انداز اور میل تک پھیل گیا تھا۔راستے میں جہاں فجر کا وقت ہوا اور وضو کے لئے پانی میسر آسکا احباب نے باجماعت نمانہ ادا کرنے کا انتظام کر لیا۔طلوع آفتاب کے وقت قافلہ قادیان پہنچا وہاں پہنچ کر نعش مبارک کو حضور کے باغ والے مکان کے دالان میں لکھ دیا گیا۔جوں جوں باہر کی جماعتوں کو حضور کے وصال کی اطلاع ملتی گئی، احباب دور و نزدیک سے قادیان جمع ہوتے گئے۔اور خاموشی سے زیر لب درود شریف پڑھتے ہوئے اور دعائیں کرتے ہوئے حضور کے چہرہ مبارک کی زیارت کرتے رہے۔