تحدیث نعمت — Page 251
۲۵۱ احتیاط سے جانچا جائے آپ کا یقینا یہ تجربہ ہے کہ ایسے مقدمات میں جب کسی شخص کو نا حق مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے تو شہادت میں دیگر ملزمان کی نسبت اس پر زیادہ بوجھ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہاں بھی یہی صورت ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ اس ملزم کے ہاتھ میں کلہاڑہ اتھا۔لیکن ڈاکٹری شہادت میں مقتول کپیسی تیز دھامرہ آئے کا نشان نہیں اس اعتراض ا ر یہ بنایا گیا کہ ملزم کلہاڑے کو الٹا چلاتا ہی نا۔مسٹر جسٹس پیرین۔تم نے کبھی کلہاڑا اللہ چلانے کی کوشش کی ہے ؟ ظفر اللہ خاں۔نہیں جناب ! مرحبٹس ہیرین۔کمبھی کوشش کر کے دیکھنا بھاری کلہاڑے کو الٹا چلا نا سیدھا چلانے کی بت شکل ہے۔کلہاڑے کی ساخت ہی ایسی ہوتی ہے کہ تیز دھار والی طرف پتلی اور ملکی ہو اور کھیل کی طرف موٹی اور بھاری ہو۔تا کہ جب زور سے وار کیا جائے تو تیز دھار دور تک لکڑی کے اندر گھسی ہے اور اسے توڑ دے اور اس میں جوڑا شگاف کر دے۔اس وجہ سے کلہاڑے کا الٹی طرف سے چلانا مشکل ہوتا ہے۔بحث ختم کرتے ہوئے میں نے گذارش کی کہ ملزم نمبر 1 کی نسبت شک کی گنجائش ہے کہ اسے نامی لزمان میں شامل کیا گیا ہے۔اسے شک کا فائدہ ملنا چاہیئے۔تیسرے ملزم کی نسبت میری کوئی گزارش نہیں۔استغاثے کی طرف سے میاں محمد رفیع صاحب وکیل تھے۔انہوں نے میری بحث کے جواب میں کہا کہ ایک شخص مارا گیا ہے۔اٹھارہ گواہ چشم دید شہادت دیتے ہیں۔ان کے بیانات میں کوئی اختلاف نہیں حالت ماتحت کے فیصلے میں کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں۔مسٹر جٹس پیرین۔ملزمان کے وکیل نے یہ سب باتیں خود ہی تسلیم کر لی ہیں جو ہر وہ اس نے بیان کی ہیں ان کا اگر کوئی جواب آپ دنیا چاہتے ہیں تو کہیئے ؟ میاں محمد رفیع - جناب عالی ره و حجره نہایت کمزور ہیں اور شہادت استغاثہ اسقدر قوی ہے۔کہ اس کے مقابلے میں وہ وجوہ قابل نہ پیدائی نہیں۔جج صاحب نے اسی وقت فیصلہ لکھوا دیا۔میری بیان کردہ وجوہ کا خلاصہ دیکر کہا مجھے ان سے اتفاق ہے۔ہمیں ملزم نمبر کو شک کا فائدہ دیکہ برمی کرتا ہوں۔ملزم نمبرا کی ستر سات سال سے تخفیف کر کے پانچ سال کرتا ہوں۔ملزم نمبر ۳ کا اپیل خارج کرتا ہوں۔ہم عدالت کے کمرے سے باہر نکلے تو چو دھری بشیر احمد صاب نے جو ان دنوں بطور جو نیٹر کے میرے شریک کار تھے کہا یہ کس قسم کی وکالت ہے کہ تم نے ایک ملزم کی طرف سے