تحدیث نعمت — Page 243
۲۴۳ اور میں گئی۔چودھری صاحب ان ہندو وکلاء میں سے ایک کے پاس گئے کہ ہم آپ کو وکیل کرنا چاہتے ہیں۔واقعتاً سنکر وکیل نے فرمایا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ خرید اراضی پر آپ کی ادا کر دوہ رقم واپس مل جائے تو میری نہیں استقدر ہوگی۔اگر آپ مصر ہیں کہ رقبہ متنازعہ کی ڈگری آپ کے حق میں ہو جائے تو میری فیس مر گئی ہوگی۔چودھری صاحب نے موخهم الذکر رقم ادا کر دی اور رقبہ متنارعہ کی ڈگری ان کے حق میں ہوگئی۔لیکن کیوا سوال کر سب ایک جیسے نہیں ) والی کیفیت تھی سارے ہند روج بخشی صاحب کے رنگ میں رنگین نہیں تھے۔مسٹر سیٹس جے لال صاحب | مسٹر جسٹس جے لالی مذہبی عقائد اور تمدنی کے لحاظ سے کٹر ہندو تھے ر شکل و شباہت میں بھی بخشی صاحب سے بڑھ کر ہندو دکھائی دیتے تھے۔لیکن اپنے فرائض منصبی کی اداکی میں حق و انصاف کے تقاضے سے سرمو ادھر ادھر نہیں ہوتے تھے۔قانونی قابلیت میں وہ بخشی صاحب کے ہم پلہ نہیں تھے لیکن جہاں بخشی صاحب نے اپنی مسلمہ قابلیت و سلم آزادی کا ہر بار کیا تھا۔وہاں مسٹر جسٹس جے لال شرافت کے پہلے شریف نواز اور بے لاگ انصاف کرنے والے تھے۔مسٹر جسٹس زندگی لال صاحب | دوسری مثال مسٹر جیٹس زندگی لال صاحب کیا دی جاسکتی ہے وہ سب بیج سے سیشن ج اور پھر بائی کورٹ کے بج ہوئے۔کہا جاتا تھا کہ سرشادی لال سے ان کی قرابت واردی ہے۔اگر بھی بھی تو ان کے اطوار سرش دی لال کے نہ تھے۔بہت قابل اور بیدار مغزج تھے۔بہت جلد ات کی تہ کو پہنچتے تھے۔مقدمات کے فیصلوں میںکسی قسم کی طرفدار ی کے روادار نہیں تھے۔بہن خو بیوں کے خود حامل تھے جہاں انہیں پاتے تھے ان کی قدر کرتے تھے۔جسٹس مہر چند مہاجن صاحب | میں نے مسٹر جس مہر چند مہاجن صاحب کی بھی کا زمانہ بہت کم دیکھا لیکن ان کی پریکٹس کے زمانے میں انہیں اچھی طرح جانتا تھا۔ان کی قابلیت مسلمہ تھی لیکن نبخشی صاحب کے پھیلے اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔سر شادی لالی صاحب چیف جٹس | سر شادی لال کی پالیسی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی تھا کہ وہ ہائی کورٹ کی بھی پر کسی قابل مسلمان کا تقر گوارا نہیں کرتے تھے۔مسٹر جسٹس شاہ دین تو ان سے سینیٹر تھے اور ایک درخشندہ گوہر تھے۔افسوس کہ چیف کورٹ کے ہائی کورٹ ہونے سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔سریش دی لال کے چیف جسٹس کو جانے کے بعد اگران کا بس چلتا تو کوئی مسلمان ہائی کورٹ کا جمع ہونے نہ پاتا لیکن یہ ان کے عبس کی بات نہ تھی۔ایک ایسے صوبے کی ٹائی کورٹ میں جس کی آبادی میں کثرت مسلمانوں کی تھی مسلمان بجوں کا تقریر لازم تھا۔شیخ عبدالقادر صاحب اپنی مرجان مریخ طبیعت اور شیریں گفتاری کی وجہ سے ہر طبقے میں ہر بخرید تھے ایک عارضی اسامی پر ان کے تقریر پر رشادی حال رضا مند ہو گئے۔تین مہینے کے بعد پھر دو سال کے لئے