تحدیث نعمت — Page 237
مسلمانوں کو ۴۸ فیصدی نمائندگی محفوظ نشستوں کی صورت میں اور 8 فی صدی مزدور دل کی نشستوں سے متوقع صورت میں دی گئی۔گویا مسلمان ۴۸۰۸۰ فیصدی نمائندگی کے حقدار ٹھہرے۔کثرت کی اس تجویز سے میاں صاحب نے مسلمانوں کی طرف سے اور سربی این متر نے ہندؤں کی طرف سے اختلاف کیا حکومت برطانیہ نے فرقہ وارانہ نمائندگی کے فیصلے میں اس تناسب کو قائم نہ کھا۔ہندوؤں کو اس تجوید کے تخت تناسب آبادی کے مقابلے میں کم نمائندگی دیگئی۔میثاق لکھنو کی رو سے مسلمانوں کو بنگال میں عام نشستوں میں سے ہم فیصدی دیا گیا تھا۔چونکہ خاص نشستوں کی تعداد ۳۰ فیصدی تک پہنچ جاتی تھی۔رپوربین، صنعت و حرفت ، تجارت ، مزدور یونیورسٹی اور اس میں سے مسلمانوں کو کوئی نشست حاصل نہیں ہوتی تھی۔عمل مسلمانوں کی نمائندگی ۲۸ میاد رہ جاتی تھی۔حکومت کے متذکرہ بالا فیصلے سے مسلمانوں کی نمائندگی ہم فیصدی ہو گئی جو میاں سر فضل حسین صاحب کی مساعی کا ہی ثمرہ تھا۔تصویر کے تمام نقوش کو انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر سر فضل حسین ایک محکم اور مضبوط بنیاد نہ قائم کر گئے ہوتے تو سر کے بعد کی نہایت قابل فدیہ اور قابل احترام قیادت کو پاکستان کی عمارت تعمیر کرنے میں بہت دشواری پیش آئی اس کا اندانہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر مرکزی اعلی ملانہ منتوں میں مسلمانوں کے تناسب کے متعلق حکومت ہند کی کم جولائی کہ والی ہدایات جاری نہ ہو چکی ہو میں تو شاہ میں کتنے مسلمان ان علامتوں میں ہوتے اور کیادہ تعداد ایک آزاد ملک کی حکومت کے صیغہ جات کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے قابل ہوتی ؟ ہ میں جب میں پنجاب کی کونسل کیلئے منتخب ہو گیا تو حضرت خلیفتہ امیں نے مجھے ہدایت فرمائی کہ میں کونسل میں اور سیاسی میدان عمل میں میاں سر فضل حسین کے ساتھ پو ر المعادن کروں۔حضور نے فرمایا کہ مسلمانوں میں قیادت کی کمی تو ہے ہی اپر مستزاد یہ کمزوری ہے۔کہ جب کوئی کام کا شخص آگے آتا ہے تو بجائے اس کے ساتھ تعاون کرنے کے اور اس کی پوزیشن مضبوط کرنے کے اس کی مخالفت کر کے اسے کمزور کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔میاں صاحب اس وقت قوم کی دانشمندانہ اور مخلصانہ خدمت کر رہے ہیں۔اس لئے ان کی تائید اور ان کے ساتھ تعاون لازم ہے۔میں تو پہلے ہی میاں صاحب کے ملاح اور ممنونِ احسان تھا اس لئے حضور کے ارشاد کی تعمیل میرے لئے آسان تھی۔میاں صاحب یونینسٹ پارہ ٹی کے بانی اور لیڈر تھے۔ان کی تائید اور ان کے ساتھ تعاون کا موثر ذریعہ یہی تھا کہ میں یونینسٹ پارٹی میں شامل ہو جانا۔اور حقیقت یہ ہے کہ اور کوئی صورت تھی بھی نہیں۔ایوان مجلس میں نشستوں کی جو تمہ نیب تھی اس کے مطابق میری نشست علامہ سر محمد اقبال صاحب اور مولوی سر یہ حیم بخش صاحب کے درمیان تھی۔مجلس کا پہلا اجلاس جنوری