تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 235 of 736

تحدیث نعمت — Page 235

۲۳۵ وائسرائے نے کہا آپ ہمیشہ زور دیتے ہیں کہ ہر شعبہ میں ہندوستانیوں کو آگے بڑھایا جائے۔اب یہ موقعہ ہے آپ مرکزی حکومت کے رکن کی حیثیت سے اپنی تجاویہ کوعملی جامہ پہنانے کی خود سعی کرسکیں گے۔اس پیل کو رد کرنا مشکل تھا۔پھر یہ بھی ہے کہ میں نو سال سے صوبے میں کام کر یہ تا ہوں میرے ساتھ کام کرنے والے توقع یہ کھتے ہیں کہ مں جگہ خالی کمروں تو وہ میری جگہ ہیں۔جگہ تو ایک ہی ہے اور ایک ہی کومل سکتی ہے۔اگر میں اس سے چمٹارہ ہوں تو کئی رفیق ہیں جن کو یہ ناگوارہ ہو گا۔باپ بڑھاپے کو پہنچتا ہے تو بیٹوں کی خواہش ہوتی ہے کہ جائداد کا نظام اب ہمارے سپرد ہونا چاہیے اور یہ تومید ان سیاست ہے۔حکومت ہند میں کام کرنے کے دوران میں میاں صاحب نے ہندوستانیوں اور بالخصوص مسلمانوں کی بہبودی کے لئے جو کوششیں کیں ان کی فہرست بہت طویل ہے۔نمونے کے طور پر ایک کا ذکر مناسب ہو گا۔آپ سے پہلے سرسید علی امام صاحب ، سرمایی محمد شفیع صاحب، سر محمد حبیب اللہ صاحب وائسرائے کی مجلس عاملہ کے رکن رہ چکے تھے۔اور سب نے علی قدر مراتب گرانقدر خدمات انجام دیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔لیکن ہر مرحلے پر خدمت کا میدان کھلا ہوتا ہے۔اور نئے نئے مواقع خدمت کے میسر آتے رہتے ہیں میاں سر فضل حسین صاحب نے ایک واضح مقصد اپنے سامنے رکھا ہوا تھا۔اس کے حصول کے لئے وہ صوبے میں کوشاں رہے اور وہی مقصد وہ اپنے ساتھ مرکز میں لے گئے۔ہمیشہ ان کی بھی کوشش رہی کہ ملک اور اہل ملک ہر شعبے میں آگے قدم بڑھائیں اور یہ تقی کی * اس جدو جہد میں مسلمان پورا حصہ لیں اور اس میں انہیں ان کا پورا حق دیا جائے۔اپنی رکنیت کی میعاد کے پہلے نصف میں ہی آپ نے اپنے محکمے کے سکریٹریٹ میں جو اونچے عہدے تھے ان پر ہندوستانیوں کا تقریر کر لیاتھا سیکریڑی سرگہ جاشنکہ باجپائی صاحب تھے۔بجائنٹ سیکریٹری مٹر رام چندرہ صاحب عیسائی تھے۔ڈپٹی سیکرٹری صالح اکبر حیدری صاحب تھے۔کچھ عرصے کے لئے خان بہادر شیخ خورشید محمد صاحب انڈر سیکریڑی رہے۔اس وقت تک وائسرے کی کونسل کے کسی دوسریے ہندوستانی یا غیر مند دوستانی رکن کو ایک کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تھی۔میاں صاحب کے متعلقہ محکمہ جات میں سے آثار قدیمہ کے ڈائرکٹر جنرل رائے بہادر دیا رام ساہنی ہوئے۔انڈین میڈیکل سروس کا مرکزی ادارہ ہندوستانی عنصر سے بالکل خالی تھا اور اس کے ڈائریکٹر منزل جنرل میگا صاحب آن اسنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے کہ ماسب موقعہ پہ مرکز میں کسی ہندوستانی افسر کا تقریر زیر غور آئے۔میاں صاحب نے اپنی میعاد ختم ہونے سے پہلے لفٹنٹ کرنل گنا پتی کے تنفر بطور پبلک ہیلتھ کمتر ڈپٹی ڈائر کٹر جنرل آئی ایم ایس کی منظوری واٹس ایٹے سے لے لی۔میاں صاحب کے مرکزی حکومت کارکین جون سے پہلے تک مرکز ہی اعلیٰ علامہ متوں میں خال خالی ہی کوئی مسلمان نظر آتا تھا۔آپ نے مطالبہ کیا کہ اس صورتِ حال کی اصلاح ہونی چاہئے۔چنانچہ سر مربوٹ امیرسن کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ وہ اس سلسلے میں تفصیلی