تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 7 of 736

تحدیث نعمت — Page 7

گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ۔میٹرو کولیشن میں کامیاب ہونے پر مجھے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل کرا دیا گیا۔لاہور میں پہلے چند دن میں چودھری شہاب الدین صاحب کے ہاں ان کے مکان واقعہ بازار حج محمد لطیف میں ٹھہرا۔کالج میں داخل ہو جانے کے ایک دو دن بعد میں کا بج کے ہوسٹل میں پھلا گیا۔اور مجھے ڈار مسٹری عثہ میں جگہ مل گئی۔مجھ سے جدائی والدہ صاحبہ پر بہت شاق تھی اور ان کے اصرارہ پر میں ہر دور سے ہفتے اتوار کا دن ان کے ساتھ گزارنے کیلئے سیالکوٹ چلا جاتا تھا۔انٹر میڈیٹ کے دونوں سال گرمیوں میں مجھے آشوب چشم کی وجہ سے بہت تکلیف رہی۔اس دوران میں پانچے آزمائشی امتحانات ہوئے جن میں سے دو میں تو بیٹھ ہی نہ سکا۔باقی تین میں میں انگریزی اور عربی میں تو پاس ہوتا ہ با ر گومیرے نمبر پاس کے درجے سے تین چار ہی نزاید ہوا کرتے تھے ، لیکن ایک میں میں ریاضی میں فیل ہو گیا۔دوسرے میں سائنسیس میں اور آخری امتحان میں ان دونوں مضامین میں فیل ہو گیا۔یونیورسٹی کے امتحان کی تیارہی کے لئے مجھے سردیوں کے تین چار مہینے میسر آگئے۔ان آخری مہینوں میں میں اوسطاً دس بارہ گھنٹے روزانہ توجہ کے ساتھ مطالعہ کر لیتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال فضل اور رحم سے مجھے یونیورسٹی کے امتحان میں کامیابی عطاء فرمائی میں دوسرے درجے میں اچھے نمبروں سے پاس ہو گیا۔اس زمانہ میں سلسلہ احمدیہ کی سخت مخالفت ہو رہی تھی۔ڈامسٹری میں میں اکیلا احمدی تھا۔ہم کل آٹھ السلم اس کمرے میں تھے۔دو تین ان میں سے کبھی شرارت پر آتے تو مجھے دق کرتے۔پہلے سال گرمی کی تعطیلوں میں جب میں گھر گیا تو میں نے والد صاحب کی خدمت نہیں گذارش کی کہ میری رہائش کا انتظام سیویل سے باہر کر دیا جائے۔وجہ معلوم ہونے پر انہوں نے فرمایا تم ابھی سے گھبرا گئے ہو زندگی میں تو تمہیں اس سے بہت بڑی مشکلوں کا سامنا ہوگا۔اگر ابھی سے برداشت کی عادت نہیں ڈالو گے تو آگے چل کر کیا کرو گے میں خاموش ہوگیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی سال گرمی کی تعطیلوں میں والد صاحب کے نام حضرت خلیفہ اول سے بعیت کا شرف مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کا خط آیا جس کا مضمون فقط اتنا تھا کہ اب آپ اپنے بیٹے کی بیعت کرا دیں۔میں نے بھی وہ خط پڑھ لیا۔میں صدق دل سے حضور علیہ السلام پر ایمان رکھتا تھا۔بیعت کرنے میں مجھے کسی قسم کا تامل نہیں تھا۔میں تو اپنے تئیں اس وقت سے ہی احمدی سمجھتا تھا جب میرے والدین نے نشہ میں بیعت کی تھی۔حضرت مولوی صاحب کے خط سے البتہ یہ علوم ہوا کہ مجھے خود بھی بیعت کرنی چاہئے۔ضلع کی عدالتوں میں ستمبر کا مہینہ تعطیل کا مہینہ ہوا کرتا تھا۔والد صاب ہر سال ستمبر میں قادیان حاضر ہوا کرتے تھے اور مجھے بھی ساتھ لے جایا کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کا