تحدیث نعمت — Page 225
۳۳۵ کہ تب اس نے چیخ پکار کا شور سنا تو وہ جاگ گئی اور دونوں ملزمان کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔دوسرے لوگوں نے کہا کہ جب وہ جاگے تو مجرم بھاگ گئے ہوئے تھے۔وہ اندھیرے کی وجہ سے کسی کو شناخت نہ کر سکے۔پولیس نے عدالت میں وقوعہ کے گواہ کے طور پر صرف مقتول شوہر کی ماں کو پیش کیا۔شناخت کے متعلق ماں نے عدالت میں بیان کیا کہ ملزم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔میں نے انہیں ان کی آوازوں سے شناخت کر لیا۔اور درخت سے ایک لالٹین بھی لٹک رہی تھی جس کی روشنی سے بھی میں نے ان کو شناخت کر لیا۔میں نے جان کی خدمت میں عرض کیا کہ ملزمان کی شناخت کا کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں۔مقتول شوہر کی والد کے بیان سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ اسے خود بھی شناخت کا یقین نہیں۔وہ پہلے کہتی ہے میں نے ملزمان کوانکی آواز سے پہچانا۔اگر فرض بھی کیا جائے کہ اس فعل میں ایک نہیں دو شخص شامل تھے تو یہ نہایت غیر غلبہ ہے کہ وہ حملہ کے وقت آپس میں بانہیں کر رہے ہوں۔معلوم ہوتا ہے اس کمزوری کے احساس کے ماتحت گواہ کو ترغیب دیگئی کہ وہ اپنے بیان کو مضبوط بنانے کے لئے لالٹین کا ذکر کرے۔لیکن اس اینمادی نے اس کے بیان کو اور بھی کمزور کر دیا ہے۔اول تور پوسٹ ابتدائی میں لالٹین کا کوئی ذکر نہیں۔لائٹین کا ذکر پہلی بارہ پولیس کی ضمنیوں میں آنا شروع ہوا جس سے صاف ظاہر ہے کہ لائین کی ضرورت پولیس کو محسوس ہوئی اور ان کی ترغیب پر گواہ نے لالٹین کو اپنے بیان میں داخل کیا۔دوسرے یہ بالکل خلاف فطرت اور خلاف دستور بات ہے کہ چند دن پہلے کا شادی شدہ ہوڑا کھلے صحن میں سوتے ہوئے یہاں قریب ہی اور لوگ بھی سورہے تھے اپنی چارپائی پر روشنی ڈالنے کے لئے ایک ملتی ہوئی لالٹین او یہ لٹکا دے۔اندرین حالات اسپلانٹ کی شمولیت اس وقوعے میں بالکل قرین قیاس نہیں۔اور اسے بری ہونا چاہئے۔مسٹر جسٹس کی راسینیوں نے پبلک پراسیکیوٹر سے اس دلیل کا جواب سننے کی خواہش کی۔پبلک پراسیکیوٹر مسٹر دیں راج ساہنی نے کہا کہ مقتول کی والدہ کا بیان واضح ہے۔اس کی کوئی تردید مسل پر نہیں کوئی وجہ نہیں کہ کیوں اس پر اعتماد نہ کیا جائے۔مسٹر جیٹس نی راسی نیول نے مسٹر ساہنی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ایک تو بیان بالکل غیر اغلب ہے پھر لالٹین کا ذکر رپورٹ ابتدائی میں نہیں، آپ ہمیں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مقتولین جیا کے احساس سے بیان تک نا آشنا تھے کہ انہوں نے اپنی چار پائی کے عین اوپر جعلی لالٹین لٹکائی ؟ مسٹری منی نے کہا جناب عالی ان دریاتی لوگوں کے جیا کے معیار کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔مسٹر یٹس کی راسپینیوں نے کچھ یہ ہم ہو کہ کہا مرے اہنی اگر آپ کوئی معقول بات نہیں کر سکتے تو بہتر ہے کہ خاموش رہیں۔ہم اپیل منظور کرتے ہیں اور اسپلانٹ کو بری کرتے۔ہیں۔یہ قیاس آرائی کہ جو کچھ ہوا وہ اگر یہ ہوتا تو اسکی جگہ کیا ہوتا۔اگر حالات میں ایک بے نتیجہ مغل ہوتا ہے مثلاً اس کیس میں اگر باپ نے سمیشن کی عدالت میں اقرار جرم نہ کر لیا ہوتا در سیشن کی عدالت دونوں ملزمان کو مقتول شوہر کی والدہ کی شہادت کی بنا پر پھانسی کی سزا دیتی اور دونوں کی طرف سے اپیل کی جاتی اور اسہیل