تحدیث نعمت — Page 214
جلسہ کی کاروائی صبح ہوتے ہی شروع ہو جاتی تھی اور دوپہر کے وقت کھانے اور نمازوں کا وقفہ چھوٹے کہ پھر شروع ہو کہ پہر رات گئے تک جاری رہتی تھی۔علمائے کرام کثیر تعداد میں تشریف لائے تھے اور سب کو ذقت دینے کیلئے ضروری تھا کہ اجلاس لمبے ہوں۔نتیجہ میری حاضری بھی سلسے میں صبح سے رات تک لازم تھی۔جب اس امان اور کھانے کیلئے ملتوی ہوتا تو میں واپس جاکر جلد میں کچھ کھا لیا در سبد مبارک میں ان میں شال ہونے کا موقعہ بھی میسر آجاتا اور مختصر رپورٹ بھی حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں گزارش کر دیتا۔رات کا اعلاس ختم ہونے کے بعد حضور دن بھر کی تمام رپورٹیں سننے کے بعد انتظامات کے معائنے کے لئے تشریف لے جاتے خاک ربھی اردل میں حاضر رہتا۔واپسی پر مجھے دو تین گھنٹے نیند کیلئے میسر آجاتے۔اللہ تعالی ہی جانتا ہے کہ ان تین دنوں میں امام جماعت کو نیند کیلئے کوئی وقت میسر آیا کہ نہیں اور اگر میسر آیا تو کتنا ؟ معائنے کے دوران میں بھی عجب کیفیت دیکھنے میں آتی ہر مقام اور ہر جو کی پر ڈیوٹی والے مستعد اور چوکس تھے۔احمدیہ محل میں ہر جگہ روتی تھی اور کس قسم کی پریشانی نہیں تھی۔ہر فردی استاد اپنی مفروضہ ڈیوٹی کولوپر سے شوق اور انہماک سے ادا کر رہا تھا۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے ایسے جید عالم اور واجب الاحترام بزرگ بیت المال کے دروازے پر پہرہ دار کے طور پر جوانوں کی طرح مستعد استادہ متھے۔آنکھوں میں وہی چمک، لبوں پر وہی تقسیم ، چہرے پر وہی بشاشت ہو قرآن کریم کا درس دیتے وقت ہوا کرتی تھی۔وہ قرآن کریم کا درس یہ قرآن کریم پر عمل - اصبروا وصابروا ور الطبوا واتقوا الله لعلکم تفلحون۔سب سے زیادہ خطرے اور بدین دیجہ سب سے زیادہ اعزانہ کی ڈیوٹی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر پہرہ کی ڈیوٹی تھی۔حفاظت کی سہولت کی خاطر حضور کے مزالہ اور حضرت خلیفتہ المسیح اول کے مزار کے گرد جلدی میں ایک کچی دیوار چاروں طرف کھڑی کر کے اس پر چھت ڈال دی گئی تھی دیوار کے گردہ اور پچھت پر پہرہ تھا۔احمد یہ ہوسٹل کے طلباء میں سے بعض کی ڈیوٹی اس مقام پر تھی ان طلبا میں میاں عطاء اللہ صاحب بھی شامل تھے۔جو بعد میں جماعت راولپنڈی کے امیر ہوئے۔پچھت پر شیخ بشیر احمد صاحب ایشیخ یوسف علی صاحب ، شیخ محمد احمد صاحب اور مرا عبدالحق صاحب پہرے پر متعین تھے۔علمائے کرام کے سلسے میں فضل اللہ کوئی نا گوارہ واقعہ رونمانہ ہوا۔فالحمد للہ تقریریں تو بیشک سلسلے کی مخالفت میں تھیں۔جلسے کی غرض ہی سہی تھی۔لیکن کوئی بات عملاف و، اشتغال یا شر انگیزی کی نیت سے کی گئی معلوم نہیں ہوتی تھی۔مولوی شاء اللہ صالہ نے اپنی تقریر کی تمہید کے طور پر چند استعا حضرت مسیح الموعود علیہ السلام کی مشہور تنظیم سے