تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 213 of 736

تحدیث نعمت — Page 213

۲۱۳ غیر احمدی علمائے کرام کا اشارہ میں صنفی اور اہل حدیث مسلک کے علماے کرام نے مشترکہ اعلان کیاکہ وہ قادیان میں جلسہ منعقد کرنا مقادیانیت کو مغلوب کرنے اور قادیان کو فتح کرنے کیلئے قادیان میں ایک زبر دست مشترکہ طلبہ کریں گے چنانچہ اس غرض کے لئے لائے کرام کا ایک نظم اجتماع قادیان میں ہوا۔دیگر علامات ساتھ یہی کہا گیاکہ مرزا صاحب کی تر کھو کر دیکھیں گے گرا کے جسم کو تیری کوئی گیند ہ پہنچا ہو وہیں ان کے دعونی کی صداقت کو تسلیم کر لیں گے۔ورنہ ثابت ہو جائے گا کہ ان کا دعوی نعوذ باللہ تھوٹا ہے۔ایسے اعلانات کی وجہ سے حفظ امن اور شعار اللہ کی حفاظت کے متعلق جماعت پر بری بھاری ذمہ داری عاید ہوگئی۔خصوصاً اس امر کے مد نظر کہ حکومت کی طرف سے جو جماعت احمدیہ کو اس کے ضبط اور نظام کے باعث شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور جماعت کے متعلق بالینی رکھتی تھی کسی موثر اقدام یا انتظام کی میں نہیں تھی۔جلسہ کی تاریخ سے ایک دن پہلے خاکسار کو حضرت خلیفہ المین کا ارشاد موصول ہوا کہ احمدیہ ہوسٹل کے طلباء کو ساتھ لیکر فوراً قادیان پہنچے جاؤ۔میں پورٹل کا وارڈن بھی تھا۔جمعہ کا دن تھا میں نے جمعہ کی نمانہ میں اعلان کیا کہ ہوسٹل کے تمام طلبا عرشام کی گاڑی سے قادریان جانے کیلئے اسٹیشن پر پہنچ جائیں۔چودھری بشیر احمد بھی اگر چہ ہوٹل میں نہیں رہتے تھے آگئے بیشیخ بشیراحمد صاحب ر حال ایڈوکیٹ لاہور سابق حج ہائی کورٹ ، ہوسٹل میں رہتے تھے لیکن اس دن کسی کام سے اپنے وطن گوجر انوالہ گئے ہوئے تھے شام کو واپس آئے تو اسٹیشن پر اپنے مجولیوں کو دیکھ کران سے سب دریافت کیا اور معلوم ہونے پر دہ بھی شامل ہو گئے۔گاڑی نصف شب کے قریب بٹالہ پہنچی۔بعض طلباء نے خواہش ظاہر کی کہ دو چار گھنٹے اسٹیشن پر آرام کرنے کے بعد قادیان روانہ ہوں۔میں نے کہا میرے نام جو ارث در آیا ہے اس میں فوراً پہنچنے کا حکم ہے توقف کی گنجائش نہیں۔ہم فوراً نہ دانہ ہو گئے۔تین چار میں مچلنے کے بعد شہری طلباء میں سے بعض نے تھکان کی شکایت کی اور کہا کچھ سستا لیں۔میں نے کہا ستا نے بیٹھ گئے تو منزل بہت دور ہو جائے گی۔ہمت سے بڑھتے چلو۔فجر کی اذان ہو دسی نفتی کہ ہم مسجد مبارک کے چوک میں پہنچ گئے۔دفاتر سب کھلے تھے اور ہر طرف روشنی تھی میں نے اپنے ساتھیوں نا ہر سے کہا متعلق دفتر میں اپنے پہنچنے کی اطلاع کر دو اور وضوکر کے خانہ میں شامل ہو جاؤ۔بعد میں معلوم ہوا کہ نماز کے فوراً بعد سب کی ڈیوٹی لگا دی گئی اور سب اپنے اپنے مقررہ مقام پر چلے گئے۔مجھے ارشاد ہو کہ علمائے کرام کے جلسے میں حاضر ہوں اور اگر کوئی اشتعال انگیز بات کی جائے تو مجسٹریٹ صاحب کو توجہ دلادوں۔میرے علاوہ حضرت خلیقہ المسیح ثانی نے پولیس کے نمائندگان اور کچھ رضا کاروں کو جلسہ میں جانے کی اجازت دی۔جماعت کے افراد کو ملبہ گاہ میں جانے یا اس کے قریب سے گذرنے کی ممانعت کر دی گئی تاکہ کس قسم کے تصادم کا امکان پیدا نہ ہو۔قصبے کے اندری اور بیرون احمدیہ محلوں میں پہرے۔حفاظت اور خبر رسانی کا انتظام تھا۔ہر فرد چوکس تھا۔نمازوں اور دعاؤں میں خاص سوزد گدازه تھا، باہمی محبت اور ہمدردی کا سجر بکریاں ہر طرف موسندن تھا۔