تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 212 of 736

تحدیث نعمت — Page 212

FIF تشریف لے گئے تو میں غالبا دفتر کے کامکی مصروفیت کی وجہ سے ان کی عمر ہی سے اور حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں حاضری سے محروم رہا واپسی پر والد صاحب نے کسی قدر کرے کے لہجے میں کہا آج تم حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر نہیں تھے۔حضور نے جماعت لاہور کے افراد سے مشورہ طلب کیا تھا کہ لاہور میں کسے امیر مقرر کیا ہے ماموی صاحب نے جلدی سے کہا مشورے کے بعد حضور نے تمہیں امیر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مبارک ہو۔اس پر والد صاحب نے فوراً فرمایا لیکن تمہارے حق میں صرف ایک رائے تھی۔حقیقت یہ تھی کہ میں لا ہورہ میں نسبتا گو وار د تھا اور جماعت کے سرگرم کارکنان کے مقابلے میں نوعمر بھی تھا۔نقوی عبادت ، علم قرآن، خشیت اللہ ، حسن کردار، تواضع، اخلاق ، روحانیات ، میل جول ، مہمان نواندی، سلسلے کی خدمات ، قربانی غرض ہر صفت کے لحاظ سے کئی بزرگ جماعت میں مجھ سے بہت درجے بلند تھے۔ان کے سامنے میری کوئی حیثیت نہیں تھی اور مجھے ان کے ساتھ کوئی بھی نسبت نہیں تھی۔میاں چراغ الدین صاحب بڑے پائے کے بزرگ اور حضرت میسج موعود علیہ السلام کے پرانے صحابی تھے۔ان کے خاندان کے بہت سے افراد جماعت میں بلند مرتبہ یہ کھتے تھے۔ان کے صاحبزادے میاں عبد العزیز مغل صاحب بہایت مخلصی اور مستعد خادم سلسلہ تھے۔حکیم محمد حسین صاحب قریشی موسعد مفرح عنبری بھی پرانے صحابی ، بڑے عبادت گذار اور تقوی شعار بند رگ تھے سلسلے کے کاموں میں جوانوں سے بڑھ کر مستعد اور سر گرم تھے۔سید دلاور شاہ صاحب بناین مخلص اور سرگرم کارکن تھے سلسلے کی تبلیغ کا خاص ہوش رکھتے تھے۔بابو عبدالحمید صاحب آڈیٹر نہایت مخلص اور بڑی پابندی اور با قاعدگی مورخ سے کام کرنے والے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیعت کے ساتھ انہیں خاص عقیدت تھی۔حضرت حمایت نے جب جماعت سے مشورہ طلب فرمایا کہ لاہورہ کی جماعت میں امیر کسے مقرر کیا جائے تو حسب توقع جماعت کی رائے دو بند رگوں قریشی محمد حسین صاحب اور سید د لادرشاہ صاحب کے حق میں تھی۔میں تو کسی شمار میں نہ تھا۔مجھے تو اس پر بھی حیرت ہوئی کہ ایک صاحب نے میرے حق میں رائے دی۔دار الامان واپسی پر حضور نے بعض ہدایات خاک رہ کو ارسال فرمائیں جن کا خلاصہ یہ تھا کہ میر کو جماعت کی انفرادی اور اجتماعی بہبودی کے تمام پہلوؤں پر نظر رکھنا چاہیئے۔اور جماعت کو مناسب تحریک کرتے رہنا چاہیے۔جن امور کا فیصلہ جماعت کو کرنا ہو ان کے متعلق مشورے کا یہ اسلوب در منا چاہیے کہ اختلاف نہ ہو۔اور تمام امور اتفاق رائے سے طے ہوں۔اگر اتفاق رائے نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ کثرت رائے سے فیصلہ ہونا چاہیے۔امیر کو چاہیے کہ اتفاق رائے یا کثرت رائے سے فیصلہ کرے لیکن جہاں اسکی رائے میں اتفاق رائے یا کثرت رائے کے مطابق فیصلہ سلسلے کے مفاد کے خلاف مودہ ایسی رائے کو رد کر سکتا ہے لیکن ایسی صورت میں اسے مرکز میں رپورٹ کرنا ہو گا ہ کن وجوہ کی بنا پر اس نے جماعت کی رائے ہے۔کو رد کیا ہے۔جماعت کے کارکن امیر کے رو بہ و ذمہ دار ہوں گے اور امیر حمل امور کے متعلق مرکز کے سامنے