تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 201 of 736

تحدیث نعمت — Page 201

اسے بھی ہر لحظہ یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک انسانی جان یا جائیں بہت حد تک اس کے علم اس کی فراست اور اس کے ضبط پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔وہ جانتا ہے کہ نتیجہ تواللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے جسے ہر قدرت ہے لیکن ملزم یا ملزمان کے ساتھ اسکی اپنی جان بھی شکنجے میں ہوتی ہے۔اہل کے مرحلے پر یہ احساس استقدرت دید نہیں ہوتا کیونکہ واقعات کے ثبوت اور تردید کا مرحلہ گذر چکا ہوتا ہے۔شہادت کی تجرید و تنقید اور واقعات سے نتائج اخذ کرنے پر بحث ہوتی ہے۔سیشن میں تجورج پر بہت کچھ انحصار ہوتا ہے۔بعض دفعہ ایک غیر مزدوری یا غیر متا سوال ملزم کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔یاکسی ضروری سوال کے متعلق غفلت یا کوتا ہی ملزم کے خلاف قیاس مضبوط کہ دیتی ہے۔اور کاروائی کے دوران میں سوچ بچارہ کا نہ یادہ موقعہ نہیں ہوتا - میرا پہلا سیشن کہیں میرے پہلے سیشن کیس میں آٹھ ملزمان پر جو آپس میں چیرے بھائی تھے، اپنے ایک چا کے قتل کا الزام تھا۔مختصر واقعات یہ تھے کہ جیسے بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اکثر ہوتا ہے خاندان میں کاشت اراضیات کے سلسلے میں باہمی تکرار ہو جاتی تھی اور مقتول ہو کہنے میں سرکردہ ہونے کی حیثیت رکھتا تھا اپنے بھتیجوں کیساتھ سختی سے پیش آنا تھا ایک ایسے موقعہ پر مقتول ملزمان کے کوئیں پر اپنے بیٹوں سمیت آگیا۔انہیں کنواں چلانے سے روکدیا کنوئیں کی ماہل کاٹ دی جس کے نتیجے میں آبپاشی کا تمام سامان کنوئیں میں گر گیا اس کے بعد اپنے بیٹوں سمیت ملزمان میں سے جو موجود تھے ان پر دھاوا بول دیا۔ان کی بیان پر آہنی۔انہوں نے بھی ڈانگ سوٹا جو کچھ میسر آیا ہاتھ میں لے لیا اور مقابلے پر ڈٹ گئے۔زردکوب میں چھا کے سرپر ضربات لگیں۔دونوں فریق کا جوش ٹھنڈا ہوا۔چا کے بیٹوں نے گھر جا کر ہے کی تیمار داری میں سعی کی۔اوہلے جلا کر گرم راکھ اس کے سر کی مزبات پہ باندھی۔گرم دودھ میں گھی ملاکر بلایا بھتیجوں نے معافی طلب کی بیبہ سے میاں نے معاف کیا اور طرفین کو نصیحت کی کہ آپس میں اتفاق سے رہنا چاہیئے۔پولیس کو واقعہ کی اطلاع ہوئی سب انسپکٹر صاحب معہ عملہ کے تشریف لائے۔بڑے میاں سے پوچھا کیا واقعہ ہوا ؟ وہ ہوش میں آئے اور کہا بھائیوں بھائیوں میں تکرار ہو جایا کرتی ہے ہمیں آپس میں کوئی شکوہ نہیں۔آپ کی یہاں کوئی مضرورت نہیں۔ہم مقدمہ بازی میں پھنس کر عدالتوں میں خواہ نہیں ہونا چاہتے۔آپ کا یہاں کچھ کام نہیں آپ تشریف لے جائیں۔سب انسپکٹر صاحب چلے گئے۔تیسرے دن بڑے میاں کے زخموں میں درد شروع ہوا اور خون بہنے لگا۔ایک دو گھنٹوں کے اندر حالت خراب ہو گئی اور داعی اجل کو لبیک کہا، پولیس کو اطلاع ہوئی، تفتیش ہوئی چالان ہوا، مقدمہ سیشن سپرد ہوا، میں ملزمان کی طرف سے پیروی کے لئے لاہور سے سیالکوٹ گیا۔لالہ منالال صاحب سیشن جج تھے۔چودھری محمد امین صاحب سرکاری وکیل تھے۔ملزمان میں سے دو تین تو بوقت وقوعہ موجود نہیں تھے۔باقیوں کی طرف سے میں نے جرح میں حق خود حفاظتی کی بنیاد یہ کھنا شروع کی اور تین واقعات کا بیان کیا ہے شہادت استغاثہ سے ان کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔بحث میں اس بات سے بہت مددی