تحدیث نعمت — Page 188
کی تائید کی توقع ہے ؟ میں نے کہا میں دو تین بار سر شادی لال صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔وہ میرے تعلیمی ریکارڈ کی تعریف کرتے تھے ان سے ضرور کچھ تو قع ہو سکتی ہے۔میاں صاحب مسکرائے اور فرمایا اچھا تو اب ان سے ملکہ انہیں بتا دیا کہ تم نے درخواست دی ہے۔سرجیان مینا ر ڈ سے مل کر بھی فقط اتنا کہہ نیا کہ تم نے درخواست دی ہے۔کریل سٹیفنسن سے کہ دنیا میں گورنمنٹ کالج کا طالب علم ہوں اور اگر کسی اور میڈی کا ریکارڈ میرے ریکارڈ سے بہتر نہ ہو تو میں امید کرتا ہوں آپ میری تائید کریں گے۔چنانچہ میں نے میاں صاحب کے اشیاء کی تعمیل کردی۔سرش دوی لال نے فرمایا تمہاری موزونیت کے متعلق تو کوئی شک ہی نہیں ہو سکتا تمہارا ریکارڈ انتہائی طور کا اچھا ہے۔دو ہفتے بعد میاں صاحب نے مجھے پھر طلب فرمایا اور کہا گو میاں تمہا ہے تقریر کا تو فیصلہ ہو گیا ہے۔صرف شادی لال نے تمہارے تقریر کی مخالفت کی تھی۔کمیٹی کا اجلان شروع ہوتے ہی سرجان مینا ر ڈ نے مجھ سے پو چھا کہ درخواست کنندگان میں کوئی نمایاں طور پر منانہ بھی ہے؟ میں نے تمہارا نام لیا۔اس پر سرحان نے کہا تو کیا اس پر کمیٹی کا اتفاق سمجھ لیا جائے ؟ شادری لال نے کہا اس کا تعلیمی ریکار ڈ تو اچھا ہے لیکن ابھی تجربہ نہیں۔میں نے کہا پانچ سال کی پر کیسی ہے میرے ساتھ بھی اس نے کام کیا ہے۔میری رائے اس کی نسبت بہت اچھی ہے۔پانچ سال ہوئے لندن یونیورسٹی کے ایل ایل بیا کے امتحان میں آئنہ نہ میں یو نیورسٹی بھر میں اول رہا۔میری رائے میں کالج میں کام کرنے کے لحاظ سے یونیورسٹی کا نانہ تجربہ ہونا اس کے لئے مفید اور محمد ہو گا۔کرنل سٹیفنسن نے کہا اگر میاں صاحب اسے ذاتی طور پر جانتے ہیں اور ان کی رائے میں یہ بہترین امیدوارہ ہے تو تامل کی کوئی وجہ نہیں، کمیٹی نے اس پر اتفاق رائے کا اظہارہ کیا اور معاملہ طے ہو گیا۔شادی لال نے اس خیال سے کہ دوسری اسامی کے متعلق معلدی رائے ظاہر کر دیتے پر کمیٹی ان سے اتفاق کرے گی فوراً کہا دوسری اسامی کے متعلق میں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کمرشل لاء پر لکچر دینے کے لئے ایک قابل تجربہ کار قانون دان کی ضرورت ہو تو لالہ ہر گوپال بہترین امیدوار ہے۔میرے سامنے اسے بہت دفعہ پیش ہونے کا اتفاق ہوا ہے۔میں نے اسے ہر لحاظ سے قابل پایا ہے۔اس پر میں نے کہا میری رائے میں پایا پایا پر چونی لال اند نه یادہ موزوں ہو گا رہ بیرسٹر ہے اور لندن یونیورسٹی کا ایل ایل بجا ہے۔لالہ ہر گوپال کو تعلیمی ماستول ترک کئے ہوئے عرصہ ہو گیا ہے اور اسی تعلیم بھی سب ملکی ہے۔اسے باہر جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔لیکچر دینے میں قوت بیان کا بھی بہت دخل ہوتا ہے۔لازم بات ہے کہ جو شخص تین سال انگلستان میں تعلیم یا تار ہا ہے اور اس نے وہاں کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی ہے وہ اچھا لیکچر انہ ثابت ہوگا۔میں تجزیہ کرتا ہوں کہ کمیٹی اس بات پر اتفاق کرے کہ میں ان دونوں امیدواروں سے کہدوں کہ وہ وائس چانسلہ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔دونوں میں سے جیسے دائیں چانسلہ موزوں ترخیال کریں اس کا تقرر ہو جائے۔اس پر کیٹی نے اتفاق کر لیا۔اب یہ یقینی بات ہے کہ وائس چانسلہ "