تحدیث نعمت — Page 187
" کے تعلق میں کبھی آ جانا تھا۔مسٹر مورین کی رائے تھی اور مجھے اس سے اتفاق تھا کہ ہمیں بے تعلق سریع کر کے اپنے موکلان کو عدالت کے نوٹس میں نہیں لانا چاہئے۔جہاں کسی امر کی وضاحت کے ان کے حق میں جانے کا انسان ہوتا مسٹر مورٹن یا میں ایک دو سوال کر کے وضاحت کروا دیتے بردار صاحب اور سید صاحب کو بھی کوئی خواہش ناموری محاصل کرنے کی نہ تھی۔عدالت کی کاروائی کے متعلق شروع ہی میں اندازہ ہو گیا تھا کہ توقع سے زیادہ لمبی ہو جائے گی۔پچار پانچ دن کے بعد مسٹر محمد حسن صاحب نے مجھ سے کہا کہ عدالت کی کاروائی لمبی ہو رہی ہے۔کیا تم یہ کر سکتے ہو کہ سید محسن شاہ صاحب کی وکالت بھی اپنے ذمے لے لو۔اس سے تمہارے کام اور تمہاری ذمہ داری میں کوئی زیادہ اضافہ نہیں ہو گا۔اگر تم رضامند ہو جاؤ تو تمہاری موجودہ روزانہ نہیں سردانہ صاحب اور سید صاحب مل کر ادا کر دیا کریں۔اس طرح سردانہ صاحب کا بو سمجھ ہلکا ہو جائے گا۔میں نے ان کی تجویز کو خوشی سے قبول کر لیا۔عدالت کی کاروائی اندازہ النصف تک پہنچی ہوگی کہ مسٹر محمد حسن صاحب نے پھر نمونیہ کی کہ اب بقیہ عرصہ کیلئے تم نصف نہیں پر کام کرنا منظور کر لو میں نے یہ ترمیم بھی بلا تامل قبول کر لی خصوصاً اس لئے بھی کہ سید حسن شاہ صاحب پر مقدمہ کی کاروائی ناقابل برداشت بو مجھ ہو رہی تھی۔علاوہ مقدمے کی پریشانی اور متعلقہ اخراجات کے ان کی پریکٹیس جو ان کا ذریعہ معاش تھی بالکل بند تھی۔سردار صاحب کا انحصا پریکٹس پر نہیں تھا لیکن ان پر بھی اخراجات بار ہو رہے تھے۔آخر عدالت کی کاروائی اختتام کو پہنچی اور ٹر یونینل نے اپنا فیصلہ سنایا۔لالہ ہرکشن لال صاحب اور دیگر ممتاز ملزمان کو عمر قید اور ضبطئی جائداد کی سزادی گئی۔ایک دور ملزمان کو دس دس سال قید با مشقت کی سزادی گئی۔سردانہ صاحب اور سید صاحب یہی کئے گئے۔ٹریبیونل کا فیصلہ دیر تک قائم نہ رہا اور باقی ملزمان بھی جلد رہا ہو گئے۔اسی سال دسمبر میں کانگہ کہیں کا سالانہ اجلاس بڑی دھوم دھام سے امرنہ میں ہوا۔برطانوی عملداری ہندوستان میں ۲۸ سال بعد جا کر ختم ہوئی لیکن اللہ کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ اس کی کیفیت اب چراغ سحری کی ہے۔ان واقعات کے دو سال کے اندر ہی آئینی اصلاحات کی پہلی قسط کا نفاذ ہوگیا اور میاں فضل حسین صاحب اور لالہ ہرکشن لال صاحب پنجاب کی صوبائی حکومت کے پہلے وزراء مقرر ہوئے۔لاء کالج لاہور میں بطور لیکچرار تنقرر | شانہ کی گرمیوں میں میاں فضل حسین صاحب نے مجھے طلب فرایا اور کہاکہ لا کالج لاہور میں گرمیوں کی تعطیلات ے بعد دو لیکچراروں کی ضرورت ہوگی۔ایک سلم کا انتخاب کیا جائے گا اور ایک غیرمسلم کا۔تم درخواست دیدو۔یونیورسٹی کی لاء کالج کمیٹی کے چیر مین سر جان مینارڈور نانش کمشنر ، بحیثیت وائس سپانسر تھے اور سیکریٹری میاں فضل حسین صاحب تھے۔سر شادی لای صاحب اور کر تل سٹیفن پرنسپل گورنمنٹ کا بھی بھی کمیٹی کے مبر تھے۔میاں صاحب نے دریافت فرمایا کیٹی کے میران میں سے نہیں کی