تحدیث نعمت — Page 185
۱۸۵ عورتیں اپنے پاس پر تصدیقی مہر حاصل کرنے کے منتظر تھے۔مٹی کا مہینہ تھا، دوپہر کا وقت تھا، گرمی کی شدت تھی، باری آنے پر میں اندر گیا۔فوجی افسر نے کوئی جیل حجت نہ کی تو کچھ مزدوری تھا خاموشی سے کر کے پاس واپس میرے حوالے کر دیا۔اگر بچہ میں تمین سال انگلستان میں رہ چکا تھا۔پھر بھی یہ امر میری طبیعت پر بہت شاق گذرا کہ وہ نوجوان افسر ہو نظاہر شریف طبع معلوم ہوتا تھا کہ سی پہ بالکل ننگا بیٹھا ہوا تھا۔صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا پانی میں بھیگا ہوانات کے نیچے رکھ لیا تھا۔اسی حالت میں مرد بھی اس کے سامنے پیش ہو نے تھے اور مستورات بھی۔مارشل لاء ٹر یونکہ میں لیڈران مارشل لاء کے قواعد کی خلاف وربه ندی پر تو فوری اگر سمری کاردائی کے خلاف سنگین مقدمات ہو کہ کوڑے یا مجرمانہ یا قید کی سزا دیدی جاتی تھی۔لیکن ایشال کے جاری ہونے سے بین پہلے جو فسادات ہوئے تھے ان کے سلسلے میں مفروضہ جرائم کی سزا دہی کے لئے مارشل لاء ٹربیونلز قائم کئے گئے تھے۔ٹریبونل میر کیا ہے جو میں رکھا گیا اس میں لالہ ہرکشن لال صاحب ، ڈاکٹر کو کل پند نامہ نگ صاحب اور چھ سات اور معززین زمرہ ملزمان میں شامل تھے۔ان میں دو مسلمان ملزمان سردار حبیب اللہ خاں صاحب اور سید محسن شاہ صاحب بھی تھے نہ ملنہ مان پیر علاوہ دیگی۔التزامات کے ملک معظم کے خلاف جنگ کرنے اور جنگ پر اک نے کا الزام بھی تھا جس کی سزا موت بھی ہوسکتی تھی۔ٹریبونل کے صدر مسٹر جسٹس غیز لی جونز تھے۔ان کے ساتھ ایک انگریز سیشن ج مر مرسین اور ایک ہندوستانی نسب بیج شیخ دین محمد تھے۔سب ملزمان زیر حراست تھے۔ان مارشل لاء کی علالتوں میں سر کارہ کی طرف سے جو د کلاء پیروی کرتے تھے ان میں خان بہادر کہ شیخ عبد القادر۔صاحب بھی تھے جو اُن دنوں لائل پور میں سرکاری وکیل تھے اور وہاں سے بلائے گئے تھے۔سردار حبیب اللہ خان اور سید حسن شاہ | ٹریبیونل نمبرا کے اجلاس شروع ہونے کو تھے کہ صاحبان کی طرف سے مارشل لائم بیونل میں پیروی مسٹر محمد حسن صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ مردانہ حبیب اللہ خان صاحب کی والدہ محترمہ بہت پریشان ہیں۔عام طور پر وکلاء مارشل لاء کی عد النقوی میں ملزمان کی طرف سے پیروی کرنے سے خائف ہیں۔انہوں نے سردار حبیب اللہ خانصاحب کی طرف سے مسٹر مورٹن کو وکیل کیا ہے۔لیکن وہ ضعیف ہونے کے علاوہ اردو اچھی طرح نہیں سمجھتے اور انہیں ایک قابل جونیر کی ضرورت ہے۔سردار صاحب کے بھائی مسٹر یو کہ امت میرے پاس آئے تھے۔اور کہتے تھے ان کی والدہ محترمہ چاہتی ہیں کہ میں تم سے کہوں کہ تم مردانہ صاحب کی طرف سے مسٹر مورٹن کے ساتھ بطور جونیر کام کرو۔میں نے کہا میں ہر طرح خدمت کے لئے تیار ہوں۔