تحدیث نعمت — Page 184
۱۸۴ کے قریب والی مارشل لاء کی چوکی پر حوالے کرنا تھی۔ہمیں ہمارے دفاتر میں پہنچا کریں ٹیمیں گاڑی چوکی پیہ لے گیا۔مارشل لاء افسر نے بڑھی تریشی کے لہجے میں پوچھا تم کیوں یہاں آئے ہو ؟ اس نے کہا محصورہ گاڑی حوالے کرنے آیا ہوں۔پوچھا کہاں ہے گاڑی جو میں نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا افسر نے گاڑی کی طرف دیکھا اور غصے سے کہا یہ گاڑی ہے ہے بھا گو اسے لیکر اس کی ہمیں ضرورت نہیں۔ہمارا ہر یہ بھیری ہی سہی بڑی حقارت سے رد کر دیا گیا۔اور تمہیں فضل اللہ یہ سہولت میسیسی بھی تھی مارشل لاء کے دوران میں بھی حاصل رہی۔فالحمد للہ۔اگر کاری ضبط ہو جاتی تو ڈیوس روڈ پر رہائش جاری رکھنا نہایت مشکل ہو جاتا گرمی کی شدت ہو رہی تھی اور کرائے کی سواری کا ملنا مشکل تھا۔ڈیوس روڈ سے سید فضل علی صاحب کے دفتر بھی دو میل سے زائد فاصلے پر تھا اور میرا دفتر بازانہ بے محمد لطیف میں تو تین میں سے بھی زاید فاصلے پر تھا۔اگر ر ہائش شہر کے اندر پہلے مکان میں پھر منتقل کی جاتی تو مارشل لاء کی پابندیوں کی وجہ سے وہاں زندگی دو بھر ہجر بھائی۔ایک اور طریق سیاسی دباؤ گا اور قومی قیادت کو حکومت کی نظروں میں معتوب ظاہر کرنے کا یہ اختیار یا گیا کہ جن شخصیتوں کو حکومت مشتبہ شمار کرتی تھی انکے مکانوں کی دیواروں پر لکڑی کے تختے آویزاں کئے گئے جن پر مارشل لاء کے اعلانات اطلاع عام کیلئے چپکائے جاتے۔ان تختوں اور اعلانوں کی حفات صاحب مکان کے ذمے ہوتی۔اگر شرارت بھی کوئی شخص ان تختوں یا اعلانوں کو نقصان پہنچاتا تو صاحب مکان مستوجب تغذیہ گردانا جاتا۔دن کے وقت تو بھلا صاحب مسکان بورڈ کے پاس کوئی پہرہ دار مقرر کر دیا لیکن رات کے اندھیرے میں اس فرض سے سرخروئی حاصل کرنا مشکل امر تھا۔میاں فضل حسین صاحب کے بنگلے کے باہر بھی یہ بورڈ لگا ہوا تھا۔انہوں نے تو یہ ترکیب کرلی کہ بورڈ اس طریقی سے آویزاں کیا جائے کہ جب بچائیں دونوں طرف کی رسیوں کو کھنچے کہ بورڈ کو زمین سے ۹ - ۱۰ فٹ کی بلندی تک اوپر کھینچ لیا جائے۔دن بھر تو بورڈ اتنی بلندی پر لٹکا ر تبا ہ گذرنے والا اگر چاہے تو اعلانات کو آسانی سے پڑھ سکے اور غروب آفتاب کے بعد اسے بلند کر دیا جاتا۔نقل و حرکت پر پابندی اتنی کڑی ہوگئی کہ بغیراشد ضرورت کے کوئی شخص سفر یہ آمادہ نہ ہوتا مجھے ایک ون کا جو سے ڈسکہ جانے کی ضرورت پیش آگئی، پاس حاصل کیا۔گوجرانوالے تک بیل کا سفر تھا پھر شرک کا۔اگر چہ گوجرانوالہ شہر میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں تھی لیکن سٹیشن سے آتے اور بجاتے سول سٹیشن سے گندہ نا اہم تھا اور وہاں پاس دکھانا اور اجازت حاصل کرنا ضروری تھا۔واپسی پر میں مارشل لاء کے دفتر میں گیا۔مارشل لاء انسیہ انگریز فوجی افسر تھا۔بنگلے کے ہمہ آمدے کے پہلو میں اس کا دفتر تھا۔چند مرد