تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 92 of 736

تحدیث نعمت — Page 92

۹۲ بیگ اس میں لاہ لئے۔اور اسے کنا سے کے اوپر کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔سامان اٹھائے اسی طرف جارہے تھے۔کنا ہے پر چڑھ کر دیکھا کہ علاقہ سرسبز ہے اور کہیں کہیں کھیتوں کے درمیان کاشت کاروں کے مکان نظر آتے ہیں۔ہم سے ایک مکان کا رخ کیا ہو یہ بھی نظر آتا تھا اور حیثیت میں بھی ممتاز معلوم ہوتا تھا۔مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ پہلے سے ہی یہاں مسافروں کے ٹھہرنے کا انتظام ہے۔کمرے کشادہ ہوا دارہ اور نہایت صاف تھے۔سامان سادہ تھا۔لیکن ہر ضروری چیز مہیا تھی۔معلوم ہوا کہ اگیا بورگ آتے جانے والے جہانہ چونکہ یہاں ٹھہرتے ہیں اور کئی دفعہ مسافروں کو یہاں رات میسر کہ نیکا اتفاق ہوتا ہے۔اس لئے اس مکان والوں نے انہیں ٹھہرانے کا انتظام کیا ہوا ہے۔جب ہم منہ ہاتھ دھوکر تیار ہو گئے تو ہمارے ہمسفر نے کہا کھانے کا انتظام ایک قریب کے فارم ہاؤس میں ہے سو وہاں چلیں۔ہم کھیتوں میں سے ہوتے ہوئے وہاں گئے کوئی نصف میل کا فاصلہ تھا۔دن کا اکثر حصہ ایک تنگ کشتی میں جکڑے ہوئے گزارنے کے بعد یہ مختصر سی سیر بہت خوشگوار معلوم ہوئی۔یہ مکان بھی نہایت صاف ستھرا تھا۔اسے بڑے کمرے میں کھانے کا میز مرتسم کے ٹھنڈے اور گرم کھانوں سے لدا ہوا تھا۔انڈے ، مچھلی ، گوشت ، تہ کاری ، سلاد ، قسم قسم کی روٹی، در دوستی سب با افراط موجود تھے ،شیریں پھل، چائے، قہوہ کی کمی نہ تھی۔ہم سب دن بھر کے بھوکے تھے۔خوب سیر ہو کر کھایا۔گھر کی دو فرامین بطور میزبان کمرے میں موجود تھیں۔وہ آرام سے کر یوں پر میٹھی سلائی یا کشیدے کے شغل میں مصروف تھیں اور ساتھ ساتھ مہمانوں کے ساتھ بات چیت بھی جاری تھی۔ساراما توں گھر یلو تھا۔کسی قسم کا اجنبیت کا احساس نہیں تھا۔شام بہت آرام اور و چینی میں گذری۔کھانے کے دام اسقدر کم تھے کہ مجھے اس سے پہلے کبھی اتنا عمدہ کھانا اتنے سستے دامول کھانے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ہم ایسے بلا امتیا ز صرف ایک ایک فنش مارک طلب کیا گیا جس کی اسوقت کی قیمت انگریزی سکے میں دس پنس تھی۔ان دنوں فنلینڈ میں ہر چیز بہت وایسی قیمت پر مل جاتی تھی اور نجی اور فنلینڈ یورپ کے ممالک میں سر سے سنتے سمجھے جاتے تھے۔دوسری صبح ہم دونمانی بہانہ یہ کیا بورگ پہنچ گئے۔ہمارے اس سفر میں یہ رسے شمالی مقام تھا۔ہمارے پہلے پروگرام کے مطابق تو نہیں یہاں سے شمال کو جانا تھا اور خلیج پوتھیا کے گرد ہو کر سویات میں سے ہوتے ہوئے انگلستان واپس لوٹنا تھا۔لیکن بعد میں ہم نے یہ پروگرام بدل دیا اور ایک دن الیا اور ٹھہر کہ بذریعہ دریل واپس جنوب کی طرف روانہ ہو گئے۔اگیا لورگ میں ہمیں دو تین لیپ لینڈ