تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 90 of 736

تحدیث نعمت — Page 90

ز رفت مارو نے ہماری کشتی کو کھینچنا شروع کر دیا۔یہاں دریا کا پاٹ چوڑا ہو گیا اور کنارے بھی نیچے ہو گئے ارد گرد کا علاقہ بالکل سنسان تھا۔معلوم ہوتا تھاکہ یہاں آبادی بہت ہی کم ہے کسی قسم کی آن کا سلسلہ دریا کے کناروں پر نظر نہ آتا تھا۔دخانی کشتی آہستہ آہستہ جاتی تھی۔RAPID کے مقابلے میں سفر کا یہ حصہ بہت سست رفتاری سے طے ہوا اور کوئی امر دلچسپی کا نہ تھا۔RAPID میں سے گزرتے ہوئے ہماری تمام تنہ تو جہ اس عجیب کیفیت کی طرف تھی جس میں سے ہم گزر رہے تھے اور جس کا ہمیں پہلے تجربہ تھا نہ صحیح اندازہ۔بات چیت کا نہ موقع تھانہ طبیعت بات چیت پر مائل تھی یوں بھی ہدایت تھی کہ RA PID میں سے گذرنے کے دوران کوئی مسافر ملاح سے کوئی بات نہ کرے۔ملاح کی ساری توجہ کشتی کی طرف تھی۔وہ اپنے چھو کی خفیف کی حرکت سے کشتی کو پٹانوں اور بھنوروں کی زد سے بچاتے ہوئے نسبتنا گہرے پانی کی رو میں سے لئے جاتا تھا۔ایسے معلوم ہوتا تھا کہ اس کا چہرہ اور سیم شیخ کی حالت میں ہیں۔آنکھیں پانی کی رو پر جمی ہوئی تھیں اور پیشانی کی رگیں ابھری ہوئی تھیں۔ہماری پیٹھ اس کی طرف تھی اور اگر چہ ہم اس طور پر پھینچ کر میٹھے ہوئے تھے کہ زیادہ ملنے جلنے کی گنجائش نہ تھی۔پھر بھی کبھی کبھی گردن موڑ کر ہم اسے دیکھ لیتے تھے کیونکہ جہاں تک انسانی ہز اور احتیاط کا تعلق تھا ہماری سلامتی اس کے ہاتھوں میں تھی سردار صاحب اور میں کبھی کبھی آپس میں بات چیت کر لیتے تھے۔اگر چہ وہ اس حصہ سفر کے متعلق مطمئن نہ تھے اور حالات سے مجبور ہو کر رضامند ہوئے تھے۔لیکن جب سفر شروع ہو گیا تو انہوں نے کسی مرحلے پر بھی پریشانی کا اظہار کیا ہے آرامی کی شکایت کی ملکہ جیسے ان کی عادت تھی ہر بات پر ہنستے رہے اور خطرے کے پہلو کو مذاق میں ٹالتے رہے۔ہمارے آگے جو دو مسافر بیٹھے تھے ان میں سے ایک تجارتی گماشتہ تھا۔وہ انگریزی سے تھوڑی سی واقفیت رکھتا تھا۔نو جوان تھا اور ہلکے جسم کا تھا۔جب ہمیں کچھ چلا کرنے کی ضرورت ہوتی تو وہ خود ہمیں تبا دیتا یا ہم اس سے دریافت کر لیتے۔دوسرا ادھیڑ عمر کا بھاری بھر کم لانے قد کا تھا سردار صاحب اکثر وقت پنجابی میں اس کا مذاق اڑاتے چلے گئے۔یہاں ذرا خطرے کا احساس ہونا کہتے خدا خیر کرے یہ ریمین ہیں لے ڈوبنے گا۔دوپہر کے وقت دریا کے ہموار حصے ہی کی تھوڑی دیر کے لئے کنارے لگی۔کنارہ اونچا تھا کیشی ملنے جلنے کی گنجائش نہیں تھی۔ہم نے یہ موقع غنیمت جان کشتی سے اتھہ کر اوپر چڑھ گئے اور چند منٹ کنا سے کے قریب گھوم لئے کنارے کے قریب ہی ایک بڑھیا سیاہ قہوہ اور باسی پیسٹری بیچ رہی تھی۔قہوے کیلئے تو چینی میسر نہ تھی لیکن خلاف توقع دودھ بھی نہ تھا۔حالانکہ فلینڈ میں دودھ عام معلوم