تحدیث نعمت — Page 84
پڑتی ہے۔کو بچو ان کی نشست کھلی ہوتی ہے اور اسے سردی سے بچنے کیلئے روئی سے بھرے ہوئے کپڑے پہننا پڑتے ہیں۔وہ اس لباس کا اس حد تک عادی ہو جاتا ہے کہ گرمیوں میں بھی وہی لباس پہنے رکھتا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس زمانے میں وہ گرمیوں اور سردیوں کے لئے علیحد علیحدہ لباس بنوانے کی استطاعت بھی نہ رکھتا ہو۔جب ہم نے ہوٹل کا نام اور پتہ بتایا تو کو چھوا نے اپنی نشست پر میٹھے میٹھے ہماری طرف دیکھ کہ اپنا سر اثبات میں ہلایا۔مسکراہٹ سے اس کی باچھیں کھلیں اور اس نے گھوڑے کی پیٹھ پر ایک سپانگ رسید کی۔گھوڑ اچل پڑا اور دروزہ کی حرکت میں آئی۔یہ وکٹوریہ کی شکل کی گاڑی تھی جس کے پیٹے چھوٹے چھوٹے تھے سردیوں میں جب نہ میں پر برف جم جاتی ہے تو یہ بیٹے اتار دیئے جاتے ہیں۔اور ان کی جگہ سکینز لگادی جاتی ہیں۔جن سے یہ وکٹوریہ گاڑی ایک مسیح بن جاتی ہے جیسے گھوڑا بڑی آسانی سے کھینچ لیتا ہے۔ان دنوں پیٹرز برگ کے عام بازاروں اور سڑکوں پر رات کے وقت مدھم سی روشنی ہوا کرتی تھی۔لیمپ دور و در نصب تھے اور ان کی روشنی تیز نہیں تھی۔کوچوان شاید فاصلہ کم کرنے کی خاطر ہمیں غیر معروف اور تنگ سڑکوں پر سے لئے جار ہا تھا۔پیٹ نہ برگ کی شہرت اچھی نہ تھی اور رات کا اندھیرا ہو چکا تھا۔ہمیں کچھ کر ہوئی کہ یہ ہمیں کہاں لئے جارہا ہے۔سردار صاحب کسی وقت اسے پنجابی میں گالی دیکر پوچھتے تم نہیں کہاں لئے جار ہے ہو ؟ اس کے کان پنجابی اور انگریزی دونوں سے نا آشنا تھے۔لیکن سردار صاحب کی بلند آوازہ اور استفہامیہ لہجے سے وہ اتنا سمجھ جاتا کہ اسے مخاطب کیا بھارتا ہے۔وہ پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھتا، مسکرا تا سر جاتا اور ہوٹل کا نام لیکہ گول شائیا موریس کائیا الفاظ دہرا دیتا۔جس سے اسوقت نہ تو کچھ ہمارے پلے پڑتا ہ ہماری تسلی ہوتی۔بعد میں معلوم ہوا کہ بول شائیا موریس کا ٹیا بڑی نہر کو کہتے ہیں جس کے قریب ہمارا ہوٹل تھا سردار صاحب اسے مسکراتے ہوئے دو تین اور گالیاں سنا دیتے اور اپنا موٹا بید کا ڈنڈا میں کا ہینڈل چاندی کا تھا اور جو انگلستان کیلئے روانہ ہوتے وقت ان کے ماموں شیخ اصغر علی صاحب نے انہیں بطور تحفہ دیا تھا اٹھا کہ اس کے چہرے کے سامنے ہلا دیتے۔آسخہ ہم ایک نیم اندھیری سٹرک سے نکل کر ایک روشن چوک میں داخل ہوئے اور ہمارتی وکٹوریہ مول انگلے ٹیر کے سامنے آکر رک گئی۔کو جوان اور سردار محمد اکبر خالصاحب ہنستے ہنستے ایک رویے سے رخصت ہوئے۔ہم میٹ نہ برگ میں ڈرتے ڈرتے آئے تھے کیونکہ زار کی خفیہ پولیس کے کئی قصے سنے اور