تحدیث نعمت — Page 696
۶۹۶ حاضر ہوئے ہیں۔جہاں تو نے فرمایا ہے طواف کرو۔ہم نے طواف کیا ہے، عمال تونے فرمایا ہے بھی کر نے سعی کی ہے، ہو تو رہے مان ہیں وہ سب تری عطا کردہ توفیق سے بالائیں گے لیکن ہم تیرے امان ہی گرمی کی شدت جاری ہے کہ ہم سب عورات کے میدان میں حاضر ہوں گے تجھے سب قدرت ہے تو تم فرما اور کل کا دن منا کر دے۔میں نے کہا ایسی دعا ایک جائز ہے اللہ تعالی مالک ہے لیکن اپنے بندوں کی نانی بر داری بھی کرتا ہے کیا عجب کہ تمہاری دعاکی یہ ادا اللہ تعالی کو بھا جائے اور رو رویا ی تھی ایک عجیب کی ہوئی عزیز امین سے کہا توتمہاری اور قوی کیا گیا تمام دن موسم خوشگوار را در باد نیم جاری رہی ظہر و عصر کے بعد بادل چھٹ گئے لیکن ہا ی ی ی ی ی ی ی ی یکی در اردن میں کچھ بند باندی بھی ہوئے ار کی صبح کو طلوع آفتاب کے بعد منی سے عرفات روانہ ہوئے یہ حج کادن تھا اس دن حجاز کی بڑی کثرت تھی لیکن عرفات پہنچنے اور وہاں سے اسی شام مزد لفرد اس پینے کا انتظا بہت اچھانا گردو بار تولازم تھالیکن انہیں جس کا اندیشید سکتا تھا ملالہ موسم خوشگوار تھا۔تشریفات کی رف سے میں بھی نظام قابل ستا تھا۔ہر جمے کے باہر یمانی کے ام درج تھے۔ان تشریفات کے بہانوں کی تعداد میں ہار ما مدتی کی ماں بھی میدان میں پر سوات میری یا اگر یہ نجات ونے کی نیت سے رمیان کمال سادگی سے یہ مارک ون کا ایلی استغفار درود ، قاری قرآن کریم اور مناسک کے بالائے سے دن ذکر یں صرف کرنے پر آمادہ تھا۔لیکن تشریفات کی طرفسے مہمان نوازی کے نظام کا تجربہ بنات نوین تھا اور بیافتہ ملالہ املک تلاوت اوران کے کارکنوں کے حق میں دلوں سے مخلصانہ دعائیں بلند ہوتی تھیں۔تشریفات کی ہمان نوازی عام مہمان نوازی کی ماند نہیں تھی اس کے بہت سے پہلو تھے اور ر پہلو کے متعلق بہت خاطر خواہ انتظام تھا۔جدہ پہنچنے پراستقبال ، معدے میں ہر مہمان کی سہولت اور خواہش کے مطابق قیام و طعام اور وسائل آمد و رفت کا انتظام، مدینہ منورہ جانے آنے کے سفر کا انتظام اور وہاں کے قیام و طعام کا انتظام۔اسی طرح منی، عرفات ، مزدلفہ میںتمام ضروری انتظامات ، منی میں واپسی ،طون وداع عدہ میں واپسی اور جدہ سے رخصت تک سب مروری انتظامات یہ سب کچھ ایسی عمدگی سے سرانجام دیا جاتاہے کہ کسی خام طلف کا احساس نہیں ہوتا اور ہر ضرورت بر وقت پوری ہوتی ہے اور ہر سوات میں ہوتی ہے ایک مقام پر مہمنوں کی ایک بڑی تعد کیلئے تمام انتظامات کا انصرام کوئی ایسا شکل منصوبہ نہ سہی مختلف مقامات پر چند مہمانوں کے لئے تفصیلی انتظام کوئی اتنا بڑا کارنامہ نہ سہی لیکن ہزاروں مہمانوں کیلئے مختلف مقامات پران کی ضروریات اور عادات کے مطابق خاطر خواہ اور پر سموسے آرام دہ اورتسلی بخش نظام حسن کارکردگی کا ایک نہایت اعلی نمونہ تھا۔جس کا ایام میں دو ہفتوں سے زائد عرصہ کے دوران میں ہیں اور باقی سب مہمانوں کو دل خوش کن تجربہ ہوا۔اور ہر محلے پر اگر دل میزبانوں کے شکر اور اسان کے اس سے کبری ہے۔فجر اسم اللہ احسن الجزاء - رات کے دن اور دربار کی نانی جی کی جاتی ہیںاور امام خطہ دیتاہے ہیں کا سامنا ہے اب ریڈ پریشر کے سائے