تحدیث نعمت — Page 622
7 ۶۲۲ شامل تعار دوبارہ عدالت کی رکنیت کیلئے منتخب نہ ہو سکے۔وہا دونوں بہار تھے۔بیماری شدت اختیار کرگئی تھی کی درست تو تشویش میں گرا لیکن پھراللہ تعالی نے صح عطا کی۔انتخاب کا نجی معلوم ونے پر ستر علالت سے ہی مجھے خط لکھا جس میں میرے دوبارہ منتخب ہونے پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے فرمایاں نہیں جانا چاہتا ہوں کہ عدالت کی رکنیت کیلئے تار انتخاب " ہا تو اقوام متحدہ میں تمہاری سرگرمیوں کو جانتے ہوئے مجھے اندیشہ تھاکہ حالت میں پیش ہونیوالے تنازعات کے فیصلوں میں تم انونی و این انہیں کوسیاسی پولٹیکل کا پران کی بھی منتر سے عبد اضح ہوگیا کہ اندیشہ بالکل بے بنیاد تھا مجھے علم ہوگیاکہ تم ایک صاحب تجربہ قانون دان اور نجی و سرفصل ملا لیں کا احتیاط سے مطالعہ کرتے ہو اورصرف انہیں باتوں کو مدنظر رکھتے تو جواس کیس کے قانونی فیصلے کیلئے ضروری ہوں۔اکثرات تمہاری رائے مجھے اپنا لئے قائم کرنے میں مدہوئی۔اور تنازعہ زیر سماعت پر جان کی باہمی گنگ کے دوران میں بڑے شوق سے اس وقت کا انتظار کرتا تھاجب تم اس کے متعلق پنی رائے کا اظہار کر کے یہ اعتراف نکی عظمت کا ثبوت تھا۔۱۸ سال عدالت کارکن ریکه فروری ء کو فیشن پر گئے اور تین سال بعد وفات پاگئے۔ناروے کے حج کلی ٹاڈ ناروے کے نجی کلیٹ ڈبھی بڑے سنجیدہ مزاج تھے اور نے کام سے کام رکھتے تھے۔بچی کی بات کرتے تھے۔عدالت کا اجلاس شروع ہونے سے دس منٹ بلانے کے میں نے اور احساس ختم ہوتے اپنے گھرکی راہ لینے انکے کسی رنی کو ان کے ساتھ بے تکلفانہ بات کرنے کی بہ نہیں ہوتی تھی جب جم سکور تھ پینڈنٹ ہوئے تو انہوں نے عدالت کے یٹ اجلاسوں میں جوں کی نشست کی ترتیب بدل دی جس کے نتیجے میں میری اس کی کمیٹی کے بائیں ہاتھ مری ہوئی میلی گر کبھی ان کے ساتھ کوئی بات کرتا تو وہ دو لفظی جواب دیکر خاموش ہو جاتے اور بات آگے نہ پھلتی۔میرے پہلے تین سالوں یعنی وار تا شاہ کے دوران میں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے انہوں نے مجھے صرف ایک بار خود مخاطب کیا۔اسدن ہندوستان کے در بر فیلم پنڈت جواہر لال نہرو لندن سے وزرائے عظام کی کانفرنس سے فارغ ہو کر وطن لوٹتے ہوئے سنگ تشریف لائے ہوئے تھے۔ہندوستانی سفر کیر متعینہ ہالینڈ نے ان کے اعزاز میں استقبالیہ دعوت دی ہوئی تھی۔عدالت کے اراکین بھی مدعو تھے دعوت کے وقت مجھے کہیں اور جانا تھا اسلئے دعوت قبول نہ کر سکا۔عدالت کے ایک پرائیویٹ اجلاس کے دوران ج کلیپٹاڈ نے مجھ سے دوریت کیا تم ہندوستانی سفیر کی دعوت میں جاؤ گے ؟ میں نے کہا مجھے تو ان جگہ جانا ہے اسلئے میں نے معذرت کر دی ہے۔اس پر فرمایا میں توہرگز ایسے شخص کے اعزاز کے اظہار میں شامل نہیں ہوں گا جیسے اپنے قول کا پاس نہیں۔کے شروع میں جب حج کلیسا د صدر عدالت اور میں نائب صدر منتخب ہوئے تو ہمیں آپس میں ملنے جلنے کا زیادہ موقعہ ملنے لگا۔صدارت کے فرائض کی سرانجام دہی کیلئے انہیں عدات میں زیادہ دیر تک ٹھہرنا ہوتا۔انتخاب کے فرا العدم سب صدر کے کمرے میں جمع تھے۔مجھے فرمایا تمہارے نائب صدر منتخب ہونے کی مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔ان کے یہ کہنے سے مجھے اطمینان ہوا کیونکہ وہ منہ سے کوئی رسمی بات نہیں نکالتے تھے۔ایک دن عالمی عدالت کے جبرار لون الوان صاحب نے مجھے اپنے ہاں کہنے