تحدیث نعمت — Page 586
۵۸۶ محاذ اپنے مطالبات حکومت سے منوانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔مغربی پاکستان کے دو بڑے شہروں کراچی اور لاہور میںجو محاذ کی سرگرمیوں کے مرکز تھے امن عامہ اول الذکر شہر میںحکومت کے بر وقت اقدام کے نتیجے میںتمام رہا اور موخر الذکر شہر می صوبائی حکومت کی کمزوری کے نتیجے میں فتنہ فساد کا شکار ہونے کے بعد فوج کے ہاتھوں بجال را لیکن محاذ کی سرگرمیوں کے تھے میں نظام حکومت کو نا قابل تلافی ضعف اور نقصان پہنچا۔رعب اور وقار نظام حکومت کے دو مضبوط استون ہیں۔جب بیستوکو لکھے کا زور ہوجائیں تو ظام حکومت ای یار یہ ہی بیکار جاتا ہو ہے۔فتنہ وفا کا اس حدتک بڑھ جانا ہ امن عامہ کے قیام یا مال کے لئے فون پہ احضار کرنا پڑے اور نظام حکومت فوج کے سپرد کرنا پڑے حکومت کی طرف سے عملا بے بسی کا اعتراف ہوتا ہے اور یہ تقدیر بار بار مل میں نہیں لائی جاسکتی ین نے متعد بار کابینہ کے اجلاس میں توجہ دلائی کرحکومت کو ا انتباہ سے فائدہ اٹھاکر نظام حکومت کی مضبوطی کی اری رو رو کرنا چاہے اور یادر کھانے کار کی بھی نظام حکومتون کے سر کرنے کی نوبت آئی وہ سپردگی عارضی و و و و و ر ا ر ا ر رهی هو گا که گوروں کا امام کا کام کرے اور عمدگی سے بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور جب مشکلات کا ساما ہوتا ہے فوج کی مد کے محتاج ہوتے ہیں توکیوں نہ نوج براہ راست حکومت کی ذمہ داری سنبھالے اور ملک کا نظم ونسق اپنے ہاتھ میں ہے۔گورنروں کی کانفرنس وزیر اعظم صاحب بھی پیش آمدہ حالات سے قیا متاثر ہوے تھے اور یہ بھی ملی ہے کران کے رفقاء میںسے بھی کسی نے یا لبعض نے انہیں مشورہ دیا ہو کیونکہ انہوں نے گورنروں کی ایک کا نفرنس طلب فرمائی جس میں اس وقت کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں صاحب اور چیف کمشنر بلوچستان خان قربان علی خان صاحب کو بھی طلب فرمایا۔غرض یہ تھی کہ ملک کی حالت اور اصلاحی تدابیر پر مشورہ کیا جائے۔ملک غلام محمد صاحب گورنر جنرل کچھ عرصے سے پریشان چلے آرہے تھے کہ یہ کی گرمیوں میں انہوں نے وزیراعظم اور ان کے رفقاء کو دریپ کے کھانے پر بلایا اور انتقام طعام پر تب خدام فارغ ہو کر کرے سے رخصت ہو چکے تو آپ نے فرمایا صاحبان میں نے آپ کو آج اسلئے تکلیف دی ہے کہ میں چندا مور بطور مشورے کے آپ کے گوش گذار کرنا چاہتا ہوں۔اول کابینہ کے اندر باہمی اعتماد در یک جہتی ہیں جن کے بغرامو سلطنت خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام نہیں دیئے جاسکتے آپ میں سے بعض فردا فردا مجھ سے ملتے ہیں اور ملاقات کے دوران میں اپنے بعض رفقاء کے متعلق شکوے کرتے ہیں انکے فرائض کی سرانجام دی کے متعلق تنقیدکرتے ہیںاور بعض دفعہ انکے متعلق نا عام الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں۔دوسرے ملک میں حکومت پر اعتمادکم ہورہا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وزراء کا عام کے ساتھ رالطبہ اور میل جول نہیں۔اسلئے وہ عوام کی ضروریات اور مشکلات کا صحیح اندازہ نہیں کرسکتے اس ضمن میں گورنہ جنرل صاحب نے مشورہ بھی دیا اور کچھ مرات بھی دیں۔خصوصیت سے وزیر اعظم صاحب سے فرمایا کہ آپ اس مری اور نائیک کی کابینہ میں اسی برای مناسب نہ i