تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 38 of 736

تحدیث نعمت — Page 38

۳۸ کی صبح وہ ہمارے ہاں آئیں۔ہم ناشتے سے فارغ ہو کر کھانے کے کمرے میں بیٹھے تھے ت چیت ہورہی مخفی تھوڑی دیر بیٹھ کر مجھ سے پوچھا تم آج فارغ ہو ؟ میں نے کہا فارغ ہی ہوں۔کہنے لگیں تو پھر اگر مرنے ساتھ چلو تو میں تمہیں لندن کی کچھ سیر کرا دوں۔میرا یہ معمول تھا کہ میں سوموار کی صبح سے جمعہ کی شام ملک تو کالج کا کام کرتا ، ہفتے کے دن بارہ کے امتحان کی تیاری کرتا ، اتوالہ کا سارا دن تفریح کیلئے تاریخ رکھتا یا اگر کام کا کچھ بقایا رہ گیا ہوتا تو ناشتے اور دو پر کے درمیان کام کرتا۔لیکن سہ پہر اور شام لان ما فارغ رکھتا۔میں جلد تیار ہوکر ان کے ساتھ ہو لیا۔پہلے ہم کنسنگٹن گارڈ نہ گئے اور تھر کنسنگٹن کے اس حصے کے کمرے دیکھے جن میں پبلک کو جانے کی اجازت تھی اور جو بطور عجائب گھر کے سجائے ہوئے تھے۔بادشاہ ، ملکہ اور شاہی خاندان کے شہزادوں شہزادیوں اور دیگر افراد کے تاجپوشی شادی وغیرہ کے فاخرہ لباس دیاں لہ کھے ہوئے تھے۔بچپن کے لباس اور پاؤں کے بوڑے بھی تھے اور بہت سی اشیاء تھیں جو مختلف اوقات میں ان کے استعمال میں رہ چکی تھیں۔وہاں سے ہم ٹائٹڈ پارک گئے ادھر جاتے ہوئے البرٹ میموریل بھی ایک نظر دیکھ لیا۔ان دنوں مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں رسو لندن کا سیزن کہلاتا ہے ، ہائڈ پارک امراء اور شریف طبقے کی سیر گاہ تھا اور اتوار کے دن تو وہاں خوب رونق ہوتی تھی شاہ جارج پنجم اپنی بیٹی شہزادی میری کے ساتھ اکثر پارک میں سواری کرتے تھے۔اور ان کے علاوہ امیر طبقے کے اکثر نواب بگیات اور شر نا سوار یا پیدل پارک میں سیر کیلئے آتے تھے۔ہائیڈ پارک سے ہوتے ہوئے مسز بین برنج کی کلب یں ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا۔وہیں میںنے نماز ادا کی۔اس کے بعد مجھے البرٹ ہال میں کانسرٹ سنے کیلئے لے گئیں۔اس ہال میں دس ہزارہ آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہوگی۔لیکن اس کی ترکیب تعمیر ایسی مناسب ہے کہ اتنے بڑے ہجوم کو اندر جانے، اپنی اپنی نشستوں تک پہنچنے اور پروگرام کے ختم ہونے پر باہر آنے میں کسی قسم کی کی وقت کا سامنا نہیں ہوتا۔یہ کانسرٹ لندن فل ہار مونک آلہ کسٹرا کی طرف سے تھا۔بس کے کنڈکٹر موسیقی کے ماہر سر اس کو کن تھے۔میرے لئے مغربی موسیقی سنے کا یہ پہلا موقعہ تھا۔ہمارے مکان میں کبھی کبھی کسی دعوت کے موقعہ پر پیانو بجتا تھا اور گانا بھی سنایا جاتا تھا۔گانے سے تو مجھے کبھی دلچسپی نہ ہوئی۔نہ گھرمیں نہ گھر سے باہر یہ موسیقی میں کبھی کبھار کوئی حصہ ایسا ہونا جو کانوں کو خوشگوار معلوم ہوتا اس کانسرٹ کے موقع پر میں تمام پروگرام کسی قدر دلچسپی سے سن سکا۔بعد کے تجربے سے معلوم ہوا کہ کلاسیکل موسیقی تو کچھ میری توجہ کا باعث ہوتی لیکن باقی تمام مغربی موسیقی مجھے بالکل شور معلوم ہوتی۔اپرا میں ایک بار گول میز کانفرنس کے ایام میں جانے کا اتفاق ہوا اور میرے لئے وہاں ہنسی روکنا مشکل ہو گی طبیعت سنقد وتی ہوئی کہ میں درمیان میں ہی اٹھ کر چلا آیا۔تھیٹر کے کھیلوں میں سے مجھے صرف ڈراما کبھی پسند آتا اور چھ