تحدیث نعمت — Page 37
اسلئے ناچار ان کے مشورے پر عمل پیرا ہونا پڑا اوروہ مشورہ صحیح ثابت ہوا۔مستر بیلی بلین برج مس پارسنز کی ایک اور بہن تھیں ان کی داستان حیات ایک افسانہ الم تھی۔وہ خوش شکل تنک مزاج ، ہمدرد ، شفیق اور شرافت کی پہلی تھیں۔کرنل فرنیک بین برنج سے شادی ہوئی جو ڈرہم کے علاقے کے ایک شریف زمیندار خاندان کے چشم و چراغ تھے۔بظاہر تمام حالات نهایت خوش آئند تھے۔شادی کے جلد بعد مستر بین بمزح کو اپنے میاں کے بعض اطوار سے شبہ ہونے لگا کہ ان کا دماغی تواندن درست نہیں۔مثلاً مس لائنرا پارکت نے مجھے بتایا کہ وہ ایملی کی شادی کے چند مہینے بعد ان کے یہاں مہمان ٹھہری ہوئی تھیں۔ایک دن فرنیک دونوں بہنوں کو گھوڑا گاڑی میں سیر کے لئے لے گئے۔واپسی کے دوران گھوڑے کو روک کر خود گاڑی سے اتمہ گئے۔راسیں انکی طرف پھینک دیں اور گھوڑے کی پیٹھ پر ایک ہنر رسید کیا جس کی ضر ہے وہ بے تحاشا گاڑی کو لیکہ بھا گا۔دونوں بہنیں دہشت سے ایک دوسری سے لیٹ گئیں۔خیر ہوئی کہ گھوڑا گاڑی سمیت بغیر کسی حادثے کے گھر پہنچ گیا۔آخر کرنل مین برج کا مرض آشکار ہوگیا اور انہیں برٹش کو لمبیا (کینیڈا کے ساحل کے قریب ایک جزیرے میں بھیج دیا گیا۔جہاں وہ ایک چینی خادم کی نگرانی میں نظائر آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔انہیں موسیقی کا شوق تھا۔ایک عمدہ پیا تو با حجہ ان کے لئے مہیا کر دیا گیا۔ایمیلی اگر چاہتیں تو ان سے طلاق حاصل کر کے دوسری شادی کر لیتیں۔لیکن انہیں یہ گوارا نہ ہوا۔برسوں بعد کبھی مجھ سے ذکر آنا تو ہمیں فرینک کے عزیز تو اسے بھول گئے لیکن میں نہیں بھولی مجھے وہ عزیز تھے۔ان کی یاد مجھے اب بھی عزیز سے مجھے ان سے کوئی شکوہ نہیں۔اگر مجھے کوئی شکوہ ہو سکتا ہے تو ان کے عزیزوں سے جنہیں علم تھا کہ ان کا دماغی توازن درست نہیں اور انہوں نے مجھے نہ بنایا۔لیکن مجھے ان سے بھی کوئی شکوہ نہیں۔شادی کے وقت جو انتظام ایملی کے لئے ہوا تھا اس میں ان کا گزارہ بڑی اچھی طرح ہوتا تھا۔وہ خود بھی آرام سے عبیر کرتی تھیں اور دوسے یوں کی مدد کے لئے بھی ان کا ہاتھ کھلا رہتا تھا۔ان کی رہائش میدہ ویل میں تھی جو ان ایام میں لندن کا ایک خوشگوار علاقہ خیال کیا جاتا تھا۔میرے قیام کے دوران میں وہ پہلی بار جب اپنی ہمشیرہ سے ملنے ہمارے ہاں آئیں تو میری بھی ان سے ملاقات ہوئی۔جلد بعد انہوں نے اپنی ہمشیرہ کے ساتھ مسٹر فائندن کو اور مجھے بھی اپنے ہاں چائے کی دعوت دی۔بہت تواضع سے پیش آئیں۔شروع مئی سایہ کا زمانہ تھا سڑا بہ منیبہ کے موسم کا آغا نہ تھا۔ایک پھوٹی سی ٹوکری ایک گنی میں آتی تھی اور گئی ان دنوں آج کے چار پونڈ کے برابر تھی۔علاوہ ایک مٹھائی وغیرہ کے انہوں نے ہمارے لئے سٹرا یہ یہ بھی مہیا کی تھیں۔کچھ دن بعد ایک افواہ