تحدیث نعمت — Page 527
نواب زادہ صاحب۔لیکن قائد اعظم چاہتے ہیں کہ تم وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالو۔ظفر اللہ۔تو پھر میرے غور کرنے اور میری منشاء کی کیا گنجائش باقی نہ ہی ؟ نواب زادہ صاحب۔میں نے سارا قصہ تم سے کہ دیا ہے۔اب تمہارے غور اور منشاء کی بس اتنی گنجائش ہے کہ تم بھو یہاں سے ہو کر جتنی جلدی ہو سکے کراچی پہنچ جاؤ۔ظفر اللہ۔جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے مجھے خدمت میں کوئی عذر نہیں اور سو خدمت سپرد ہو اس کے لئے ہمیں حاضر ہوں لیکن آخرہ ہنر نائی نی نواب صاحب سے استصواب اور ان کی اجازت حاصل کو نا بھی ضروری ہے۔یہ تو ممکن ہے کہ وہ رضامند ہو جائیں۔لیکن شاید فوراً اجازت دینے میں وہ وقت محسوس کریں یا انہیں تامل ہو۔نواب زادہ صحب قائد اعہ ہے تم کتک کوکی ظفراللہ۔نواب صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر گذارش کرنے سے پہلےمیں کوئی پختہ اندازہ نہیں ریکا اتنا ضرور کہ سکتا ہوں کہ نوب صاحبکو قائد اعظم کی خواہش کا بہت احترام ہے اور ان کی خواہش کا علم ہونے پردہ بقدر جلد مکن ہو گا مجھے اجازت مرحمت فرما دیں گے۔مجھ پر سب سے گہاں یہ امر ہوتا ہے کہمیری وجہ سے کسی شخص کو پایانی و زمانی ان نواب محمد اله خان صاحب والی ھو پال کو میں نہایت احترام کی نگر سے دیکھتا تھا۔وہ بہت خوبیوں کے مالک تھے اور ایک جہان ان کا گردیدہ اور مداح تھا۔میرے ساتھ ان کا سلوک ہمیشہ نہایت مشفقانہ رہا۔مجھے بھوپال گئے چھ ماہ کا عرصہ ہوا تھا اس میں سے چار ماہ کا عرصہ میں نے پاکستان کی خدمت میں صرف کیا تھا۔نواب صاحب نے نہ صرف خندہ پیشانی سے مجھے اجازت دی تھی بلکہ سر سیلو سے میرے آرام اور آسائش کا خیال رکھا تھا۔اور اپنے الطاف و اکرام میں فرق نہیں آنے دیا تھا۔بھوپال میں مجھے اور میرے اہل خانہ کو ہر سہولت حاصل تھی۔مکان ، سانی سواری اور ملازمین کے علاوہ گیا انقدر مشاہرہ تو پاکستان کے وزراء کے مشاہرے سے دس گنے سے بھی زیادہ تھا۔نواب صاحب کی خواہش تھی کہ میں نشایہ کے آخر تک ضرور ان کی خدمت میں رہوں۔اب ایک طرف قائد اعظم اور نواب زادہ لیاقت علی خان صاحب کا ارث د کہ میں جلد نہ بھوپال سے فارغ ہو کہ کراچی پہنچ جاوں اور دوسری طرف یہ خدشہ کہ اس مرحلہ پر میرے نواب صاحب کی خدمت ترک کرنے سے کہیں انہیں وقت نہ ہو۔اسی ادھیڑ بن میں میں بھوپال پہنچا۔نواب صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے پر یہ ذکر ناگزیر تھا۔میں نے مناسب الفاظ میں جو کچھ نا م اعظم اطمين اور نواب زادہ صاحب سے گفتگو ہوئی تھی عرض کردی۔نواب صاحب نے فرمایا سر ظفر اللہ والیان ریاست کے ساتھ ہندوستان میں جو کچھ ہونے والا ہے اس کا اندازہ ہم نے ابھی سے کر دیا ہے۔آپ کے یہاں ہونے سے مجھے علی میاں