تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 35 of 736

تحدیث نعمت — Page 35

۳۵ کے قیام کے دوران ان کی والدہ زندہ نہیں کو بہت ضعیف تھیں ان کی عمر نو نے سال سے تجاوز کر چکی تھی۔اور وہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ مبستری میں گزارہ کی تھیں میسر فائندن کی بڑی بہن مس و مسٹر اور ایک چھوٹی بہن مس بیلی ونٹر اپنی والدہ کی خبرگیری کرتی تھیں۔ان کی ایک اور بہین مسری اسن برائین کے قریب رہتی تھیں۔ان کے دونوں بیٹے جب لندن آئے تو کبھی کبھی اپنی خالہ کو ملنے بھی آتے ان میں سے ایک کے ساتھ میری اچھی واقفیت ہوگئی تھی اور کبھی کبھی میں انہیں خط بھی لکھا کرتا تھا۔ساتھ مسنر فائدن مہینہ میں ایک بار اپنی والدہ سے ملنے جایا کرتی تھیں۔ایک بارہ مجھے بھی ساتھ لے گئی تھیں ان کی والدہ بالکل یک گیر یا معلوم ہوتی تھیں چہرہ بالکل بچوں کی طرح معصومانہ تھا۔میں نیلی و نٹر کبھی کبھی اپنی ہمیشرہ سے ملنے آتی تھیں۔وہ ادبی مذاق رکھتی تھیں ان کے ساتھ بھی میری خط و کتابت رہی ہیں شاہ اور شہد میں جب میں انگلستان گیا توان سے ملاقات بھی ہوئی۔مسٹر فائندن کے ایک ہی بھائی فریڈ۔جی۔ونٹر تھے۔وہ ادبی اور شاعرانہ مذاق رکھتے تھے۔ایک لحاظ سے انکی زندگی بڑی امیدہ تھی۔آغاز شباب میں انہیں ایک لڑکی سے محبت ہو گئی وہ بھی انہیں عزیز رکھتی تھیں۔نسبت بھی کوئی لیکن شادی سے پہلے انہیں کوئی اعصابی عارضہ لاحق ہو گیا جو العلاج قرار دیا گیا اور مستقل طور پر پینی کے لا علاج مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہو گئے۔شادی کا تو اب کوئی سوال بھی نہ تھا لہذا نسب یسون ہوگئی اور کچھ عرصہ بعدان کی منصوبہ نے ایک اور صاحب سر فیلڈ سے شادی کر لی اور اپنے میاں کے ساتھ نوبی افریقہ چلی گئیں۔فریڈ چلنے پھنے کے قابل تھے انہیں اتوار کوہسپتال سے باہر جانے کی اجازت ہوتی تھی۔کبھی کبھی پنی ہمشیرہ کو ملنے آتے تھے اور دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھاتے تھے۔ایک دفعہ جب مسٹر فیلڈ انگلستان آئی ہوئی تھیں تو انہیں بھی ہمارے ہاں ساتھ لائے اور مجھے بھی ان سے ملنے کا موقع مل گیا۔فریڈ نے اپنی محبت کی ناکامی پر اپنے احساسات کا اظہار ایک بڑی در وانگیز نظم میں کیا تھا۔اس نے ابھی اس نظم کو شائع نہیں کیا تھا اور ایک کا غذ پر لکھ کر اپنے بٹوے میں رکھا ہوا تھا۔ایک دن رو پیکاڈلی سرکس کے مشہور مطعم لائنز یا پول میں دوپہر کا کھانا کھانے گئے کھانا ختم کرنے پر بل کی ادائیگی کے لئے بوہ جید سے نکالا اور کھانے کی قیمت ادا کر کے چلدیئے بٹوہ میز پر رکھا ہ گیا۔مطعم سے کچھ فاصلے پر یاد آیا تو واپس گئے بٹوہ تو ل گیا لیکن نظم والا کاغذ غائب تھا۔تھوڑے عرصہ کے بعد ہ نظم کسی اور شخص کے نام پر پی چھپ گئی اور اس کا بہت چھہ چا ہوا۔نظم کا عنوان ڈی روز ری تھا۔بعد میں اس نظم کے نام فلارنس بار کلے نے ایک ناول بھی شائع کیا۔فریڈ کی ایک نظم ایک ادبی رسالے میں چھپی تھی اسکی ایک چھپی ہوئی نقل انہوں نے مجھے بھی بھیجی اس نظم کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہی روز ری" بھی انہیں کئی