تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 480 of 736

تحدیث نعمت — Page 480

ہوا جس میں مار کو میں آن و نتھیان نے جو اس وقت اتفاق سے دلی میں موجود تھے تقریر کی جسے بہت دلچسپی سے سناگیا۔اسلامی پردے کے متعلق غلط فہمی کا ادائہ نساء کی گرمیوں میں جنوبی افریقہ سے ایک خیر سگالی و در ملے آیا جس کے قائد جنوبی افریقہ کے ایک وزیر سرمون میٹر تھے۔انہوں نے میری رہائش گاہ دی ریٹریٹ میں انسٹی ٹیوٹ کو خطاب کیا۔اس موقعہ پر ایک لطیفہ ہوا۔دن کے ایک رکن نے مجھ سے دریافت کیا تم شادی شدہ ہو ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو اس نے پوچھا کل سمیل سوٹل میں جو دعوت ہمارے اعزاز میں تھی اس میں تمہاری بیوی شامل تھی؟ میں نے کہا نہیں۔اس نے کہا کیادہ شملہ میں نہیں۔میں نے کہا ہ شملہ میں ہی لیکن پردہ کرتی ہیں اور مردوں کی محفل می نہیں جائیں۔اس نے پو چھا بھلا یہ کیوں؟ میں نے پردے کی سلامی تعلیم منظور یہ اسے بتائی اوراس پر کچھ گفتگو ہوتی رہی۔آخر میں نے اسے کہا اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت میری بیوی میری والدہ کے ہمراہ عورتوں کی ایک مجلس یں گئی ہوئی ہیں۔جاتے وقت انہیں کوئی خیال نہ تھاکہ کوئی غیرمردان کے کروں میں داخل ہوگا۔وہ اپنے کرتے ہیں ہت میں تھے ویسے ہی چھوڑ گئی ہیں۔اگر آپ اور آپ کے دن کے کوئی اور صاحب پسند کریں تومیں آپ کو ان کمروں میں نے چتا ہوں آپ انہیں دیکھ کر اندازہ کرلی کہ ہمارے ہاں پردہ دار عورتوں کی معاشرت کا کیا ری ہے۔وہ سب آمادہ ہوگئے اور میں انہیں پر لے گیا کے چاروں طرفسے کھلے تھے۔یہ آمدے کی بغل میں ایک چھوٹے کمرے میں جس کی تین دیواریں شیشے کی تھیں ایک لکڑی کے ایندل پر سامنے کے پہاڑی منظر کی ایک نیم کشیدہ تصویر تھی تو میری بیوی ان دنوں بنیاد که تھیں۔سنگار میز پر ضروری اشیاء قرینے سے رکھی تھیں۔ایک کر میں ایک تخت پر صلی لکھا تھا۔الماریوں میں کتابیں اور رسالے پڑے تھے۔کچھ زیبائش کا سامان بھی تھا۔ہر کرے سے ارد گرد کی پہاڑیوں اور وادیوں کے منظر نظر آتے تھے۔جب ہم نیچے آگئے تو مین صاحب نے پہلے مجھ سے پردے کے متعلق سوال کیا تھا ان سے میں نے دریافت کیا آپ نے پر دے کے متعلق کیا اندازہ قائم کیا ؟ اس نے کہا میری ہی نہیں ہم سب کی رائے ہے کہ اگہ پردہ ای ہی ہے جیساہم نے دیکھا ہے تو ہم سب پردے کے تق میں ہیں۔ہمیں تو یہی خیال تھا کہ پردہ دار عور میں قیدیوں کی ماندن زندگی گزارتی ہیں۔انہیں گھرکی چار دیواری کے اندر محصور رہنا پڑتا ہے۔دہلیز سے با ہرقدم رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔خانہ داری کے امور کے علاؤ نہ انہیں کسی بات کا علم ہوتا ہے نہ انہیں کسی بات میں دلچسپی ہوتی ہے۔جب میں نے اپنے گھر میں اس واقعہ کا ذکر کیا تو میری بیوی نے کہا بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ میری غیر حاضری میں تم غیر مردوں کو ہمارے کمروں میں لے آئے کیا یہ پردے کے خلاف نہیں ؟میں نے کہا الا عمال بالنیات۔میرے ایسا کرنے سے ہماری معاشرت کے ایک پہلو کے متعلق ان کی غلط فہمی کی کسی حد تک اصلاح ہوگئی۔اور وہ نیک اثرہ لیکر گئے۔