تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 31 of 736

تحدیث نعمت — Page 31

کردی کہ میں نے لندن میں داخلہ لے لیا ہے اور اب کیمرج جانے کی ضرورت نہ ہو گی۔ہوگی بیرسٹری کیلئے لنکنران میں داخلہ۔بیرسٹری کیلئے مینے شکران میں داخلہ لے لیا اس طرح میری قانون کی تعلیم کا دور شروع ہوگیا۔کنگز کالج میں داخلے کے بعد مجھے قانون کی ڈگری کے کورس کے لئے علاوہ اس کالج کے یونیورسٹی کالج اور لندن سکول آف اکنامکس میں بھی لیکچروں کے لئے جانا ہوتا تھا۔اس وقت تو میں نے کیمرج میں داخلہ نہ لیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ چھبیس سال بعد میں کیمبرج یونیورسٹی نے مجھے ایل ایل ڈی کی اعزانہ کی ڈگری عطا کی۔اسی سال کنگنہ کالج لندن نے مجھے اپنی مجلس عاملہ کا مبر یعنی فیلو بنایا۔اور شاہ میں لنکستر ان نے مجھے اپنا آئمہیدی پینچر بنایا۔چونکہ لندن میں داخلہ لے لینے کی وجہ سے کیمرج جانے کی ضرورت نہ رہی۔اسلئے طالب علمی کے نذرانے میں میری مستقل رہائش لندن میں رہی۔لندن پہنچنے پر چودھری عبدالحق صاحب مجھے جس مکان میں لیگئے تھے وہی میری مستقل جائے قیام بن گیا۔اس مکان کے مالک تو ایک یونانی صاحب تھے۔ان سے سرفانیان نے مکان کرائے میرے رکھا تھا اور وہ اسے بطور بورڈنگ ہاؤس چھلاتی تھیں۔وہ ایک پادری کی بیٹی تھیں اور ان کے میاں لندن یونیورسٹی کے ایم اے تھے۔دونوں میاں ہوئی ایک پلاٹویٹ سکول چلا یا کرتے تھے جب مسٹر فائنزن فوت ہو گئے تو نا چار سکول بند کرنا پڑا اور مسٹر فائندن نے مکان کو بور ڈنگ ہاؤس بنا لیا۔ہمارے لندن پہنچنے کے چند دن بعد مولوی محمد علی صاحب اور شیخ محمد سعید صاحب تو کیمبرج چلے گئے اور چودھری عبدالحق صاحب نے بھی مکان بدل لیا۔پہلے مجھے مکان کا ہے پچھوٹا کمرہ ملا تھا۔کیونکہ درن و ہی کمرہ خالی تھا۔لیکن ان صاحبان کے پہلے بجانے کے بعد مجھے ایک بڑا کمرہ مل گیا اور جتنا عرصہ میں اس مکان میں رہا میں اسی کمرے میں مقیم رہا۔میرے قیام کے عرصے میں بہت کم وقت کیلئے کوئی دوسرا ہندوستانی اس مکان میں آکر ٹھہرا اور اس لحاظ سے میرے لئے حضرت خلیفہ المیے اودل کی اس ہدایت پر عمل آسان ہوگیا کہ انگلستان کے قیام کے دوران نگر یز شیرنی کے ساتھ میل جول رکھنا مکان بہت صاف تھا۔کھانا اچھا تھا، کرایہ واجبی تھا، سٹرک پر دو رویہ درخت تھے جس کی وجہ سے سٹرک خوشنما معلوم ہوتی تھی ، زیر زمین ریل کے اسٹیشن کو بہت قریب نہیں تھے لیکن زیادہ دور بھی نہیں تھے، میں گولی ہے روڈ پر بہت قریب سے گزرتی تھیں۔ہمارے یونیورسٹی کے اکثر لیکچر شام کو ہوا کرتے تھے چونکہ یونیورسٹی کے لیکچروں میں حاضری لازم تھی اور انٹر آف کورٹ کے لیکچروں میں لازم نہ تھی اور میں ایک وقت میں ایک ہی جگہ حاضر ہو سکتا تھا۔اس لئے میں یونیورسٹی کے لیکچروں میں تو بڑی باقاعدگی اور پابندی سے حاضر ہوتارہا۔لیکن انٹر آف کورٹ